شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 237 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 237

۲۳۷ الَّذِي لَا يَرْتَابُ فِيهِ مَنْ تَتَبَّعَ أَخْبَارَهُمْ ، یعنی امام رحمتہ للہ علیہ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ہمارے ائمہ صلوات لہ علیہم کی تمام مخلوقات فضل و برگزیدگی کا ذکرکیا ہے اور بتایا ہے کہ ہمارے مته عليه السلام تمام نبیوں سے افضل ہیں۔اس بات میں وہ شخص شکک نہیں کر سکتا جو ان ائمہ کے حالات تلاش کرے۔یہ ظاہر ہے کہ کوئی غیرنی تمام نبیوں سے افضل قرار نہیں دیا جاسکتا ) به شیعہ اصحاب حضرت امام مہدی علی اسلام کے متعلق یہ سلیم کرتے ہیں کہ وہ اپنے ریول ہونے کا ان الفاظ میں اعلان کریں گے فَفَرَرْتُ مِنْكُمُ لَمَّا خِفْتُكُمُ فَوَهَبَ لِى رَبِّي حكما و جَعَلَنِي مِنَ الْمُرْسَلِينَ " (اکمال الدین مشا) یعنی آپے لوگو ! جب میں تم سے ڈرا اور اس پر بھاگ گیا تو خدا تعالیٰ نے مجھے حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں سے بنا دیا۔و :- برا هشت پھر اکمال الدین شا ۳ پر ایک اصولی بیان درج ہے کہ : فالهداة مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْأَوْصِيَاءِ لَا يَجُوزُ انْقِطَاعُهُمْ مَا دَامَ التكليفُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَازِمًا لِلْعِبَادِ " یعنی جب تک اللہ تعالیٰ کے بندے احکام ماننے کے مکلف ہیں اس وقت تک انبیاء اور اوصیاء کا انقطاع جائز نہیں۔پھر صافی شرح اصول کافی میں لکھا ہے من أبى الحسنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ وَلَايَةٌ عَلي مَكْتُوبَةٌ فِي