شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 233 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 233

۲۳۳۔کی تشبیہ دیا۔اور وہ دیوار نبوت کی سوائے ایک خشت کی جگہ کے پوری ہو چکی تھی۔اورخود رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم وہ خشت آخر تھے۔مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک خشت ہی دیکھا۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان مبارک سے فرمایا اور خاتم الاولیاء یعنی امام مہدی علیہ السلام کو یہ دیکھنا ضرور ہے کہ وہ بھی نبوت کو دیوار کے مشابہ پاتے ہیں۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تمثیل دی ہے اور خاتم الاولیاء نبوت کی دیوار میں دو اینٹ کی جگہ خالی پاتے ہیں۔ایک اینٹ سونے کی اور دوسری اینٹ چاندی کی۔پس دو اینٹ کے بغیر دیوار کو ناقص پاتے ہیں۔ان دونوں سے یعنی سونے اور چاندی کی دو اینٹوں سے اس کو کامل پاتے ہیں۔پس ضرور ہے کہ وہ اپنے نفس کو دونوں اینٹوں کی جگہ پر منطبع ہوتے ہوئے دیکھیں۔اب خاتم الاولیا ر ہی وہ دونوں اینٹ ہوئے۔اور انہی سے یہ دیوار پوری ہوتی ہے۔خاتم الاولیاء کے اس دو اینٹ دیکھنے کا یہ سبب ہے کہ وہ ظاہر میں خاتم الرسل کی شریعیت کے تابع تھے۔اور اسی متابعت سے وہ نقرئی رخشت کے مرتبہ پر تھے۔اور یہ اُن کا ظاہری مرتبہ تھا۔