شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 217
۲۱۷ سے پہلے ہماری طرف کیوں کوئی رسول نہیں بھیجا گیا تاہم اس کی اتباع کرتے اور ذلت اور رسوائی سے بچ جاتے۔غرض یہ سنت الہی ہے کہ موعود عذاب رسول کے بھیجے جانے سے پہلے نہیں آتا۔اور قیامت سے پہلے سورہ بنی اسرائیل میں ایک شدید عذاب کی خبر دی گئی ہے۔پس اس عذاب سے پہلے ایک نبی کا آنا ضروری ہوا۔اور یہی نبی حسب احادیث نبوی مسیح موعود ہے۔سراج منیر (۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ احزاب میں سراج منابر قرار دیا گیا ہے۔امام عبد الباقی زرقانی لکھتے ہیں :- قَالَ الْقَاضِي أَبُو بَكْرِ بْنُ الْعَرَبِي قَالَ عُلَمَاءُ نَا سُمِّيَ سِرَاجًا لِاَنَّ السّرَاجَ الْوَاحِدَ يُؤْخَذُ مِنْهُ السُّرُحُ الكَثِيرَةُ وَلَا يَنْقُصُ مِنْ صَوْتِهِ شَيْءٍ » ازرقانی شرح المواہب اللدنیہ جلد ۳ ملک ) قاضی ابو بکر بن عربی نے کہا ہے کہ ہمارے علماء نے کہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سراج (چراغ ، اس لئے رکھا گیا ہے کہ ایک چراغ سے بہت سے چراغ روشن ہو سکتے ہیں۔اور اس سے اصل چراغ کی روشنی میں کوئی کمی نہیں آتی۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سراج منیر ہونا چاہتا ہے کہ آپ کی ظلیت اور فیضان سے آپ کے امتی کو مقام نبوت حاصل ہو سکے۔