شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 216
۲۱۶ کریں یا ہر ایک کو بشارت دیں اس پیغمبر کی کہ اُن کے بعد ہو گا۔اور یہ عہد پیغمبروں سے روز است میں لیا گیا۔وَمِنْكَ اور لیا ہم نے تجھے سے بھی عہد اے محمد ! یا د تغیر مسیعنی اردو جلد ۲ ص ۲۵ مطبوعہ مطبع نولکشور) (۳) پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَإِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ اَوْ مُعَلَّ بُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا (سورة بنی اسرائیل ع ) یعنی کوئی بستی نہیں مگر ہم اُسے قیامت سے پہلے یا تو بالکل تباہ کر دیں گے یا اُسے عذاب شدید میں مبتلا کریں گے۔گویا فرماتا ہے کہ بعض بستیاں با لکل تباہ ہو جائینگی او بعض بالکل تباہ تو نہ ہوں گی مگر شدید عذاب میں مبتلا ہوں گی۔پھر اسی سورۃ میں فرماتا ہے وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا دبنی اسرائیل ۲۴) یعنی ہم اُس وقت تک عذاب (موعود) بھیجنے والے نہیں ہیں ، جب تک رسول نہ بھیج لیں۔پہلی آیت میں عذاب شدید کے قیامت سے پہلے آنے کی خبر ہے تو دوسری آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا عذاب جو موعود اور عالمگیر ہو رسول کے آنے کے بعد ہی آتا ہے۔کیونکہ اس کی وجہ خدا تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے وَلَوْ أَنَا أَهْلَكْنَا هُمْ بِعَذَابٍ مِّن قَبْلِهِ لَقَالُوا رَبَّنَا لَو لَا اَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَنَعَ ابْتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَذِلَّ وَ تَخَری رطه ع (۸) یعنی اگر ہم نبی کے ذریعہ نشان دکھلانے سے پہلے ہی اُن لوگوں پر عذاب نازل کر کے انہیں ہلاک کر دیتے تو یہ لوگ کہہ سکتے تھے کہ اس ذلت اور رسوائی