شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 215
۲۱۵ عہد کو رجو انبیاء کے واسطہ سے ان کی امتوں سے لیا گیا ہے، توڑ دیں گے تو وہ فاسق ہونگے یہ عہد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تمام انبیاء کی اقتوں سے انبیاء کے واسطہ سے لیا گیا ہے۔پھر بالکل یہی عہد سورہ احزاب کی آیت وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَاَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا میں مذکور ہے۔یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔جب ہم نے نبیوں سے اُن کا عہد لیا۔اور تجھ سے بھی اور نوح سے بھی اور ابراہیم موسیٰ اور عیسی بن مریم سے بھی عہد لیا۔اور ہم نے اُن سے پکا عہد لیا۔گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے بھی آپ کی امت کے لئے ایک نبی کے متعلق عہد لیا گیا ہے۔کہ آئندہ جب وہ رسول آئے تو آپ کی امت اس پر ایمان لائے۔اسی بناء پر معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح نبی اللہ کی امت محمدیہ میں آنے کی پیش گوئی فرمائی ہے۔خدا تعالے کی طرف سے ابنیاء سے جو عہد لیا گیا تھا یہ انبیاء والا عہد صرف سورۃ آل عمران میں ہی مذکور ہے۔اور اس میں صرف ایک نبی اللہ پر ایمان لاپنے اور اس کی مدد کرنے کا ہی عہد ہے۔اس عہد کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ تم نے صرف سی نسبی اللہ کی آمد کی پیشگوئی فرمائی ہے۔تفسیر حسینی میں اس آیت کے معنے یوں لکھتے ہیں :- وَ إِذْ اَخَذْنَا یاد رکھو کہ لیا ہم نے مِنَ النَّبِيِّين نبیوں سے۔ميناتهم عہد اُن کا اس بات پر کہ خدا کی عبادت کریں اور خدا کی عبادت کی طرف بلائیں۔اور ایک دوسرے کی تصدیق