شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 214
FIM خون عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (سورة اعراف رکوع ۴) ترجمہ : یعنی اسے اولاد آدم ! جب کبھی تم میں کیوں آئیں جو تم پر میری آیات بیان کریں (یعنی نئی شہریت لانے والے نہ ہوں تو جو لوگ تقی بن کر اپنی اصلاح کریں گے انہیں کوئی خوف اورغم نہیں ہوگا۔اس آیت کے سیاق والی آیات سے ظاہر ہے کہ یہاں کوئی پرانا قصہ بیان نہیں ہو رہا۔بلکہ ان آیات میں وہ احکام مذکور ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ بنی آدم کو دیئے جا رہے ہیں۔اس سے پہلے ایک آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ - عرب کے لوگ خانه کنبہ کا ننگے بدن طواف کرنا نیکی سمجھتے تھے۔خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ آے بنی آدم با تم عبادت کے وقت زینت اختیار کیا کر و۔یعنی لباس پہنا کرو۔امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں :- بَاتَهُ خِطَاب لِأَهْلِ ذَلِكَ الزَّمَانِ وَلِكُلِّ مَّنْ بَعْدَهُمْ یعنی یہ خطاب اس زمانہ کے لوگوں اور سب بعد کے لوگوں کو ہے۔(تفسیر اتقان جلد۲) (۲) سورۃ آل عمران ۹۴ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تہ نے نبیوں سے عہد لیا کہ میں نے تم کو کتاب و حکمت دی ہے۔پھر اگر تمہارے پاس کوئی رسول آد سے جو اس تعلیم کا مصدق ہو جو تمہار سے پاس ہے تو تم اس پر ضرور ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا۔پھر پوچھا کیا تم نے اس بات کا اقرار کیا ہے۔اور اس پر پکا عہد کرتے ہو۔ان نبیوں نے کہا۔ہم نے اقرار کیا ہے۔خدا تعالے نے فرمایا تم گواہ ہو۔اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔جو لوگ اس