شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 205
۲۰۵ اب ذرا مولوی محمد شفیع صاحب کے اس بیان کی حقیقت ملاحظہ ہو۔تفسیر فتح البیان جلد ، من ۲۸ میں لکھا ہے :- هُوَ صَارَ كَالْخَاتَمِ لَهُمُ الَّذِي يُحْتَمَوْنَ بِهِ وَ يَتَزَيَّنُونَ بِكَوْنِهِ مِنْهُمْ : " یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں کے لئے قائم کی طرح ہیں جس کے ذریعہ نبیوں پر مہر لگائی جاتی ہے۔اور وہ نبی اس وجہ سے زمینت پاتے ہیں کہ آپ ان انبیاء کے گروہ کا ایک فرد ہیں۔پھر امام زرقانی علیہ الرحمة شرح المواہب اللہ میں خَاتَمَ النَّبِن کے معنی لکھتے ہیں :- نَمَعْنَاهُ اَحْسَنُ الْأَنْبِيَاءِ خَلْقًا وَخُلْقًا لِاَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَالُ الْأَنْبِيَاءِ كَالْخَاتَمِ الَّذِي يتَجَمَّلُ به " 15 در زرقانی شرح المواہب الله نبیر جلد۲ ملا مصری) یعنی خاتم النبیین کے معنے یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ظاہری اور روحانی بناوٹ اور اخلاق میں سب سے زیادہ سین ہیں۔کیونکہ آپ جمال الانبیاء ہیں اس انگشتری کی مثل ہیں۔زینت دجمال حاصل کیا جاتا ہے۔اب یہ عمار بتائیں کہ کیا ان دونوں بزرگوں نے قرآن مجید پر افتراء کیا ہے ؟ کیونکہ یہ دونوں بزرگ علماء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت کو نبیوں کی زینت