شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 206
۲۰۶ یا جمال الانبیاء قرار دے رہے ہیں۔ہاں یہ یادر ہے کہ میرے نزدیک زینت کے معنے خاتم النبیین کے حقیقی معنی جامع جمیع کمالات ابنیاء سے ماخوذ ہیں۔نبیوں کی زینت اور جمال الانبیاء ہوتا تو در اصل اس جامعیت کا ہی طبعی نتیجہ ہے۔انگشتری کی مثال صرف مضمون کو قریب الفہم کرنے کے لئے دی جاسکتی ہے۔علماء خاتم النبیین کے تاویلی او مجازی معنوں کے قائل ہیں مولوی محمد شفیع صاحب اور مولوی محمد ادریس صاحب خاتم النبیین کے معنی محض آخری نی حقیقی معنی قرار دیتے ہیں۔گر تفسیر روح المعانی کے مصنف علامہ انوسٹی اپنی تغییر میں زیر آیت خَاتَمَ النَّبِيِّين لکھتے ہیں :- اَلْخَاتَمُ الَةَ لِمَا يُخْتَمُ بِهِ كَالطَّابَعِ لِمَا يُطْبَمُ بِهِ فَمَعْنى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ الَّذِي خُتِمَ بِهِ النَّبِيُّونَ وَمَالُهُ أَخِرُ التَّبِينَ " یعنی خاتم اہم آلہ ہے جس سے مہر لگائی جاتی ہے۔جیسا کہ طابع جس سے نقوش پیدا کئے جاتے ہیں۔میں خاتم النبیین کے معنی ہیں وہ شخص میں کے ذریعہ انبیاء پر مہر لگائی گئی ہو۔اور تاویل اس کی آخر النبیین ہے۔پھر تفسیر ابن جریر میں علامہ طبری جزء ۲۲ صدا پر رقمطراز ہیں :- وَالكِهُ رَسُولُ اللَّهِ وَخَاتَمُ النَّبِيْنَ الَّذِى