شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 188 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 188

IAA پانچ سیم مسلم باب الفضائل میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بیان فرماتے ہیں کہ : فَضَلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍ أُعْطِيتُ جَوامِعَ الكليمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُحِلَّتْ لَى الْغَنَائِمُ وَ جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطُهُورًا وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقَ كَانَةَ وَخُتِمَ فِي النَّبِيُّون - روالا مسلم في الفضائل " (مشکوۃ باب فضائل سید المرسلین (۵۳۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہیں کچھ باتوں میں تمام انبیاء پر فضیلت دیا گیا ہوں۔اول مجھے جوامع الکلم دیئے گئے ہیں۔دوم رعب سے نصرت دیا گیا ہوں۔سوم میرے لئے غنیمتوں کیا بال حلال کیا گیا۔چہارم میرے لیئے ساری زمین عبادت گاہ اور تمیم کے ساتھ پاک کرنے کا ذریعہ بنائی گئی ہے پنجم میں تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ششم میرے ذریعہ انبیاء پر مہر لگائی گئی ہے اب جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں اپنے خاتم النبیین ہونے کو تمام انبیاء پہ وجہ فضیلت قرار دیا ہے۔تو صاف ظاہر ہے کہ آپ کے نزدیک خاتم النبیین کا لقب آپ کی افضلیت تامتر بر جمیع ابنیاء کے معنوں پر بھی مشتمل ہے۔اب مولوی محمد شفیع صاحب اور مولوی محمد ادریس صاحب سوچ میں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خاتم النبیین کے کن معنوں کو مد نظر رکھ کر