شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 181 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 181

IAI معنوں کے ساتھ جمع ہونا محال ہے۔اہل گفت نے آخر الانبیاء کے معنے گفت کی کتابوں میں اپنے عقیدہ کے طور پر لکھے ہیں۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تئیں آخر الانبیاء بھی قرار دیا ہے۔مگر آپ نے اس کے ساتھ ہی یہ بی فرما دیا تھا وہ ان مسجدتی أخرُ المَسَاجِدِ صحيح مسلم باب فضل الصلوة في مسجد مكة والمدينة ) كه میری مسجد مسجدوں میں سے آخری ہے۔یہ نقرہ آپ نے اس لئے زائد کیا تھا کہ آخر الانبیاء کے لازمی معنے ہونے پر روشنی پڑے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ میرے بعد کوئی شارع اور تنقل بنی نہیں آسکتا۔بلکہ تابع نبی آسکتا ہے۔جیسے کہ میری مسجد کے بعد اُن مساجد کا بنانا جائز ہے جو میری مسجد کے جو آخری مسجد ہے تابع ہوں۔اور اُن کا وہی قبلہ ہو جو اس مسجد کا قبلہ ہے۔اور ان میں وہی عبادات ہوں جو اس مسجد میں ادا کی جاتی ہیں۔کیونکہ اس صورت میں وہ مساجد میری مسجد کے حکم میں ہوں گی اور میری آخری مسجد کا ظل ہوں گی۔اسی طرح میں آخری نبی ہوں۔میری شریعیت کے تابع میرا ایک کامل پیر و میری عقلیت میں مقام نبوت پا سکتا ہے۔جس طرح تابع مساجدہ کا بننا مسجد نبوی آگے آخری مسجد ہونے کے منافی نہیں ویسے ہی امتی نی یا ظلی نبی کا آنا میرے آخری بنی ہونے کے منافی نہیں - نعت نویسوں نے جب حدیثوں میں آخر الانبیاء کے الفاظ دیکھے تو انہوں نے خاتم النبیین کے معنوں میں اپنی کتابوں میں آخر الانبیاء کے الفاظ لکھ دیئے اور عموماً یہ تصریح بھی نہ کی کہ یہ معنی مجازی ہیں یا لازمی یا حقیقی۔حقیقی معنی تو انہیں قرار دے ہی نہیں سکتے تھے جیسا کہ آپ مفردات راغب کے بیان سے