شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 170
فرمایا ہے کہ لغات قرآن میں اس سے بہتر کتاب آج تک تصنیف نہیں ہوتی۔اس بے نظیر اور یگانہ کتاب میں امام راض علیہ الرحمہ لفظ ختم کے معنے یوں لکھتے ہیں :۔الخَتُمُ وَالطَّيْمُ يُقَالُ عَلَى وَجْهَيْنِ مَصْدَرُ خَتَمَمْتُ وَطَبَعتُ وَهُوَ تَأْثِيرُ اللَّيْ كَنَقْشِ الْخَاتَمِ وَالطَّائِحِ وَالثَّانِي الْاثُرُ الْحَاصِلُ مِنَ النَّقْشِ وَيُتَجَونُ بِذلِكَ تَارَةً فِي الْإِسْتِيثَاقِ مِنَ الشَّيْء وَ الْمَنْعِ مِنْهُ اِعْتِبَارًا بِمَا يَحْصُلُ مِنَ الْمَنْعِ بِالْغَيم على الكتب وَالْأَبْوَابِ تَخَوخَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَتَارَةً فِي تَحْصِيلِ اَشَرِ عَنْ شَيْءٍ اِعْتِبَارًا بِالنَّقْشِ الْحَاصِلِ وَتَارَةً يُعتبر مِنْهُ بُلُوغ الآخِرِ مِنْهُ قِيلَ خَتَمْتُ الْقُرْآنَ أي انْتَهَيْتُ إلى أخره ، ) مفردات راغب زیر لفظ ختم ) ترجمہ اس کا یہ ہے کہ ختم اور طبع کی دو صورتیں ہیں۔پہلی صورت یہ ہے (جو حقیقی معنوں کی صورت ہے) کہ ان دونوں لفظوں کے معنے تاثیر الشی ددوسری شئے میں اپنے اثرات پیدا کرتا ہیں۔جیسا کہ خاتم (مہر) کا نقش (دوسری نشے میں اپنے نقش اور اثرات پیدا کرتا ہے ) اور دوسری