شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 168
۱۶۸ کا طبعی نتیجہ یہ ہے کہ اس کے افاضہ سے نبی پیدا ہو سکیں۔اور یہی خاتم النبیین کا مفہوم ہے۔اسی طبعی نتیجہ کی وضاحت حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے یوں فرمائی ہے۔اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ ولم کو صاحب خاتم بنایا یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی۔جو کسی اور نبی کو ہرگزہ۔نہیں دی گئی۔اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبین ٹھہرا۔یعنی الا آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے۔اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے۔اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی ؟" (حقیقة الوحی حاشیه منه ) بانی سلسله احمد به علی اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خاتمیت رتی کے ساتھ آپ کی خاتمیت زمانی کے بھی قائل ہیں۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں :- د ختم نبوت آپ پہ نہ صرف زمانہ کے تاخیر کی وجہ سے ہوا بلکہ اس وجہ سے بھی کہ تمام کمالات نبوت آپ پرختم ہو گئے " الی کیر سیالکوٹ می) گویا آپ کے نزدیک ان معنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء اور نبی آخر الزمان بھی ہیں کہ آپ آخری شارع اور آخری مستقل نبی ہیں۔اور اب قیامت تک در حقیقت آپ ہی کی نبوت کا زمانہ ہے۔اتنی نبی اگر آپ کے نبض سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا از روے حدیث ایک نام صاحب خاتم ہے ازرقانی شرح المواہب اللدنیہ جلد۳ (۳۵) خاتم النبیین کی دوسری قرأت خاتم النبیین کے لحاظ سے بھی آپ صاحب خاتم ہی ہیں۔یعنی نبیوں میں سے مہر والا نبی۔