شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 167
146 حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علی السلام اس حقیقت کے پیش نظر خاتم انبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبوۃ ہونے یا بالفاظ دیگر آپ کی ختم نبوت (مہر نبوت) کی حقیقت یوں بیان فرماتے ہیں :۔" وَلَا مَعْنى لِخَتَمِ النُّبُوَّةِ عَلَى فَرْدٍ مِنْ غَيْرِ أَنْ تَخْتَتِم كمالات النُّبُوَّةِ عَلَى ذلِكَ الْفَوْدِ وَمِنَ الكَمَالَاتِ العظمِي كَمَالُ النَّبِيِّ فِي الإِفَاضَةِ وَهُوَ لَا يَثْبُتُ مِنْ غَيْرِ نَمُوذَج يُوجَدُ فِي الأُمَّةِ " ر الاستفتاء ضمیمہ حقیقة الوحی ص ) یعنی کیسی فرد پر ختم نبوت کے معنے بجز اس کے کچھ نہیں کہ اس فرد پر کمالات نبوت ختم ہو جائیں۔یعنی انتہائی کمال کو پہنچ جائیں۔اور نبوت کے بڑے کمالات میں سے نبی کا انامہ میں کمال ہے۔جو بغیر اس کے ثابت نہیں ہو سکتا کہ اس رافاضہ کمال کا نمونہ امت کے اندر پایا جائے۔گویا کسی نبی میں کمالات کا بدرجہ اتم موجود ہونا اس بات کو چاہتا ہے کہ وہ اپنے افاقہ میں بھی انتہائی کمال رکھتا ہو۔جتنا کسی میں کمال اعلی ہو گا اتنا ہی اس کے افاضہ سے وجود میں آنے والا نمونہ اعلیٰ ہوگا۔پہلے انبیاء چونکہ صرف خاتم الاولیاء تھے اس لئے اُن کے افاضہ سے صرف ولی پیدا ہو سکتے تھے۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم چونکہ خاتم الانبیاء ہیں اس لئے آپ کے افاضہ روھانیہ سے آپ کا کامل آنتی مقام نبوت بھی پا سکتا ہے۔پس خاتم النبوة