شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 166
پھر فرماتے ہیں :۔حسب مشال خاتمیت بادشاہ خاتم وہی ہوگا جو سارے جہان کا سردار ہو۔اس وجہ سے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے افضل سمجھتے ہیں " د حجة الاسلام مصنفہ مولوی محمد قاسم صاحب صفحه ۳۴- ۳۵) پس خاتم النبیین کے معنے افضل النبیین بھی ہوئے۔جو پتی کیسی گروہ کی حقیقت خاتم ہو اس کے لئے واجب ہے کہ وہ اس گروہ کے کمال کو اپنی ذات میں انتہائی نقطہ پر حاصل کرے۔پس خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ضروری تھا کہ النبیین کا وصف جو نبوت ہے وہ آپ میں انتہائی کمال پر پہنچا ہوا ہو۔اور نبوت کے مراتب میں سے جو انتہائی مرتبہ اس دنیا میں کسی انسان کے لئے ممکن ہو سکتا ہے وہ آپ کو حاصل ہو۔اور دوسرے انبیاء میں سے کوئی اس انتہائی نقطہ پہ نہ پہنچا ہو۔اور نہ عملاً اس نقطہ پر پہنچنا کسی کے لئے ممکن ہو۔۔پس خاتم النبیین کے لئے ضروری ہے کہ نبوت کی حقیقت دما بیت کو انتہائی کمال تک پہنچا دے۔اس لئے خاتم النبیین کے لئے خاتم النبوۃ ہونا از بس ضروری ہے۔ورنہ اگر اس کے معنے محض آخری نبی ہوں تو خاتم النبیین کا خطاب ایک معمولی خطاب بن جاتا ہے۔کیونکہ محض آخری ہونا کیسی ذاتی کمال کا مشعر نہیں۔اسی لئے مولوی محمد قاسم صاحب فرماتے ہیں کہ تقدم و تأخیر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں " تحذیر الناس مست