شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 160
14۔ابوت معنوی مانع توریث نہیں! مولوی محمد در یں صاحب اپنی کتاب ختم النبوة میں سیاق آیت کے رُو ہے بحث کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمُ کہنے سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ شفقت پدری بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود نہیں رہی۔اس شبہ کا ازالہ دا تعالیٰ نے رسول اللہ کے الفاظ سے کیا۔کہ آپ چونکہ امت کے روحانی باپ ہیں۔اسلئے یہ شبہ باطل ہے۔مولوی صاحب کہتے ہیں روحانی باپ قرار دینے سے دوسرا وہم پیدا ہوتا تھا کہ اب آپ کا ورثہ پھلے گا۔سو درشہ جاری ہونے کے وہم کا ازالہ خاتم النبیین کہہ کر کر دیا۔مولوی صاحب موصوف کا یہ خیال سراسر اُن کی ایجاد ہے جس کا سیاق مضمون سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ان کا یہ بیان سیاق کلام، نصوص حدیثیہ اور اقوال بزرگان دین کے خلاف ہے کیونکہ اگر توریت کا وہم دور کرنا مقصود ہوتا تو پھر رسول الله اور خاتم النبیین کے درمیان ایک اور لیکن لایا جاتا۔جب نہیں لایا گیا تو معطوف اور معطوف علیہ کی مناسبت چاہتی ہے کہ جس شبہ کا ازالہ رسُول اللہ کے الفاظ کر رہے ہیں اسی کا ازالہ خاتم النبیین کے الفاظ سے کرنا مقصود ہے۔مولوی محمد شفیع صاحب شفقت پدری کے زوال کے شبہ کے ساتھ ابتر ہونے کا شہر بھی تسلیم کرتے ہیں۔(ملاحظہ ہو ختم النبوة في القرآن ص ۳۲ )۔یہ ایک حقیقت ہے کہ شفقت پدری کے زوال کا شبہ اس جگہ قطعاً پیدا نہیں ہوتا۔صرف ابتر اور لاوارث ہونے کا شبہ پیدا ہونا تھا۔کیونکہ زید آپ کے متبنی