شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 158 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 158

۱۵۸ میں اس آیت کی ایسی ہی تغییر بیان فرمائی ہے۔حضرت مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی علی الرحمه بانی مدرسہ دیو بند بھی ان معنوں کے مصدق ہیں۔اور اس آیت کی رو سے آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کو انبیاء کا بھی بات تسلیم کرتے ہیں۔چنانچہ خاتم النبیین کی آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :- محاصل مطلب آیت کریمیہ کا اس صورت میں یہ ہوگا کہ ابوات معروفہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوکسی مرد کی نسبت حاصل نہیں۔پر البورت معنوی امتیوں کی نسبت بھی حاصل ہے اور انبیاء کی نسبت بھی حاصل ہے۔انبیاء کی نسبت تو فقط خاتم النبیین شاہد ہے۔اوصاف معروض اور موصوف بالعرض (دونوں۔ناقل ) موصوف بالذات کی فرع ہوتے ہیں۔اور موصوف بالذات اوصاف عرضیہ کا اصل ہوتا ہے۔اور وہ اس کی نسل “ (تحذیر الناس منا) پس اس آیت کی تفسیر میں جب سیاق کلام کو مد نظر رکھا جائے تو خاتم النبیین کے حقیقی معنوں کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی اور معنوی فرزندوں میں ایسے لوگ بھی ہونے چاہئیں جو آپ کی پیروی اور آپ کے فیضان سے مقام نبوت پائیں۔دائی خاتم النبیین اگر آپ کو پہلے انبیاء کا ہی باپ قرار دیا جائے اور آئندہ کے لئے آپ کی ابوت روحانی منقطع قرار دی جائے تو پھر آپ معاذ اللہ عالم جرمنی میں ظاہر