شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 157 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 157

۱۵۷ میں ایک پہلو سے مناسبت ہو۔اور دوسرے پہلو سے مغائرت۔اس سے ظاہر ہے کہ خاتم النبیین کے الفاظ سے ابوت روحانی ہی ثابت کرنا مقصور خَاتَمَ النَّبِيِّن ہے۔ورنہ معطوف علیہ اور معطوف میں مناسبت نہ رہے گی۔اب مغائرت کیوں ہی متصور ہو سکتی ہے کہ رَسُول اللہ کے الفاظ میں تو آپ کی ابوقت روحانی بلحاظ عمومیت مراد ہو اور خاتم النبیین کے الفاظ میں بلحاظ خصوصیت البوست روحانی مراد ہو تا تفائر کا پہلو بھی موجود ہو۔اور مناسبت کا پہلو بھی پایا جائے۔اور چونکہ معطوف ، معطوف علیہ پر معنوں کی زیادتی پیدا کرتا ہے۔اس لئے بلاغت کلام مقتضی ہے کہ اس جگہ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ کا عطف رَسُول اللہ پر بطور تاسیس مع تاکید کے ہو۔دلیعنی ابونت روھانی کے معنوں میں زیادتی بھی پیدا کرے اور رَسُولَ اللہ کے الفاظ میں جو ابوت روحانی ہے۔اس کی تاکی بھی کرے) پس ما حصل رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ کا یہ ہے کہ رَسُولَ اللهِ کے لفظوں میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو امت کا روحانی باپ قرار دیا گیا ہے اور خاتم النبیین کے الفاظ میں اس ابوت روحانی کو اس سے بڑی شان میں یوں پیش کیا گیا ہے کہ آپ نبیوں کے بھی باپ ہیں۔پس آپ کے وارث صرف آپ کے عام اتنی ہی نہیں ہوں گے بلکہ انبیاء بھی آپ کے وارث ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی سیاق کلام کو مد نظر رکھتے ہوئے ریویو بر مباحثه مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی دمولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی "