شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 156
۱۵۶ استعمال ہوتا ہے۔اور اسند راک کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ کلام مقدم سے جو و ہم پیدا ہوتا ہے اس وہم کو دور کرنا مقصود ہوتا ہے۔اور لیکن سے مقدم اور مالک کلام آپس میں ایک دوسرے سے نفی اور اثبات کی صورت میں معنی مختلف ہوتے ہیں۔اب اس جگہ ما كان محمد أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُم منفی کلام سے شبہ پیدا ہوتا تھا کہ معاذ اللہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ابتر ہونا اور زمینہ بالغ اولاد کے لحاظ سے آپؐ کا مقطوع النسل ہونا اور لاوارث ہونا تسلیم فرمایا لیا ہے۔حالانکہ وہ اِس سے پہلے اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الاب تو کے قول میں کفار کے اس اعتراض کی خود تردید کر چکا تھا کہ (معاذ اللہ آپ اہستہ ہیں۔اور بتا چکا تھا کہ آپ کا دشمن بہت ہے نہ یہ کہ آپ کی کوئی زمینہ اولاد نہیں۔یا آپ لاوارث ہیں۔اس جگہ اس شبہ کا ازالہ اسکین کے مثبت کلام رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ البيِّينَ کے الفاظ سے کیا گیا ہے۔ما سُول اللہ کے الفاظ سے تو اس شبہ کا ازالہ یوں کیا گیا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور رسول اپنی اُمت کا روحانی باپ ہوتا ہے اس لئے گو آپ کی جسمانی بالغ اولاد موجود نہیں۔لیکن آپ کی روحانی اولاد آپ کی اقت کی صورت میں تو ضرور موجود ہے۔لہذا آپ ابتر اور مقطوع النسل اور لاوارث نہیں۔آپ کے وارث آپ کی اُمت کی صورت میں آپ کے روحانی فرزند موجود ہیں۔پھر کا سُول اللہ کے لفظ پر خَاتَمَ النَّبِيِّينَ کا عطف کیا گیا ہے۔اور عطف کرنے کے لئے ضروری ہے کہ معطوف علیہ اور معطوف