شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 147 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 147

۱۴۷ ہے۔لیکن اولیاء کو نزول قرآنی کا ذوق عطا کرنے کے لئے ایسا کیا جاتا ہے۔اور ایسی شان بعض کو عطا کی جاتی ہے۔علماء امت کے نزدیک می شود کا کم وحی کے ذریعہ بیان شرعیت حضرت امام علی القاری مرقاۃ شرح مشکوۃ جلد ہ منہ پر لکھتے ہیں:۔أقولُ لا مُنانَا بَيْنَ أَنْ يَكُونَ نَبِيًّا وَيَكُونَ تَا بِمَا لِنَبِيِّنَا صَلَّى لنبينا صلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيَانِ أَحْكَامِ شَرِيعَتِهِ وَإِثْقَانِ طَرِيقَتِهِ وَلَوْ بِالْوَفِي إِلَيْهِ كَمَا يُشِيرُ إِلَيْهِ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ مُوسَى حَيَّا لَمَا وَسِعَهُ إِلَّا اتباعى - اتى مَعَ وَصْفِ النُّبُوَّةِ وَالرِّسَالَةِ وَالَّا فَمَعَ " سَلْبِهِ لَا يُفِيدُ زِيَادَة الْمَرِيَّةِ ترجمہ :۔میں کہتا ہوں کہ حضرت کیجے کے بنی ہونے اور آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کے تابع ہو کر احکام شریعیت کے بیان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم) کے طریقوں کے پختہ کرنے میں کوئی منافات موجود نہیں۔خواہ وہ اس وحی سے یہ کام کریں جو اُن پر نازل ہو۔جیسا کہ اس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول اشارہ کرتا ہے کہ اگر موسی زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔مراد یہ ہے کہ وصف نبوت اور رسالت کے ساتھ (میرے تابع ہوتے۔ناقل ) ورنہ سلب نبوت (نبوت چھینا جانے ) کے ساتھ تابع ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا فائدہ نہیں دیتا۔