شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 144
۱۴۴۴ مولویید! الجواب : ان حوالہ جات کے متعلق عرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات جو اوامر و نواہی پرمشتمل ہیں بطور تجدید دین اور بیان شریعت کے ہیں جس پر فقرہ حوالہ ۳ شاہد و ناطق ہے۔اور جیسے مولوی محمد شفیع صاحب نے خود بھی پیش کر دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فقرہ ۲ ایکس اعتراض کے جواب میں ہے۔مولوی کہتے تھے ، صرف وہ جھوٹا مدعی ۲۳ سال تک عمر نہیں پاتا جو صاحب شریعت ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ جواب دیتے ہیں کہ آئے تم لوگ کہتے ہو کہ کوتَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْآتَاوِيلِ لَاخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنَ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الوَتِين (الحاقہ ) کی آیت کے رُو سے خدا تعالے اس جھوٹے مدعی کو ۲۳ سال کی مہلت نہیں دیتا جو رسول کریم صلی للہ علیہ وسلم کے دعوی کی عمر ہے) جو صاحب شریعیت ہو۔اول تو تمہارا یہ دعوے باطل ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے افتراء کے ساتھ شریعت کی قید نہیں لگائی۔پھر الزامی رنگ میں بطور محبت ملازمہ یہ جواب دیتے ہیں کہ میں امر کو تم شریعیت کہتے ہو وہ اوامر و نواہی ہی ہوتے ہیں۔سو اوامر و نواہی بھی بطور تجدید دین کے د کر کن احکام شریعیت پر اس زمانہ میں زور دینا ضروری ہے) مجھے پر نازل ہوتے ہیں۔لہذا جب شریعیت کے احکام پر مشتمل دہی بھی بطور تجدید دین مجھ پر نازل ہوتی ہے تو اگر میں مفتری ہوتا تو اس وحی کی وجہ سے مجھے اس آیت کے معیار کے مطابق ۲۳ سال کی لمبی مہلت نہیں ملنی چاہیئے تھی۔اب مجھ پر تجدید دین کے طور پر شریعت محمدیہ کے اوامرو نواہی نازل ہونے کی وجہ سے تم ملزم ہو۔تمہیں میرے انکار کا کوئی حق نہیں رہا۔