شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 14
- ۱۴ نے اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا ہو تو ہم نے جان لیا کہ شریعت کا لانا ایک امیر عارض راعنی نبوت مطلقہ کی حقیقت ذاتیہ پر ایک وصف زائد ہے۔کیونکہ حضرت عیسی علی دات کام ہم میں حکم ہو کر نازل ہوں گے۔اور وہ بلاشبہ نبی ہوں گے۔یعنی اگر نبوت کے لئے شریعت کا لانا ضروری ہوتا تو امت محمدیہ کا مسیح موعود نبی اللہ نہ کہلا سکتا۔کیونکہ وہ بلا شریعیت جدیدہ ہوگا۔جب وہ بغیر شرعیت جدیدہ کے بھی بلا شک نبی اللہ ہے۔تو معلوم ہوا کہ شریعت، نبوت پر ایک وصف زائد ہے۔جو کسی نبی کو حاصل ہوتی ہے اور کسی کو نہیں۔پس حضرت محی الدین ابن عربی کے نزدیک نبوت کی حقیقت ذاتیہ تو اخبار غیبیہ کا منجانب اللہ پانا ہی ہے۔شریعیت اُن کے نزدیک کبھی نبوت کے ساتھ جمع ہوتی ہے کبھی جمع نہیں ہوتی۔یادر ہے کہ شریعت کو بھی وہ جز ء نبوت اسی لئے قرار دیتے ہیں کہ اوامر و نواہی جو امور شریعت ہیں قبل از تزول امور غیبیہ کے ہی محکم میں ہوتے ہیں حضرت امام عبدالوہاب شعرانی علیہ رحمہ فرماتے ہیں :- اعْلَمُ اَن مُطْلَقَ النُّبُوَّةِ لَمْ تَرْتَفِعُ إِنَّمَا ارْتَفَعَ تُبُوةُ التَّشْرِيحِ » (الیواقیت و الجواهر عبد منا ومن بلحاظ ایران مختلفه) یعنی جان لو کہ مطلق نبوت بند نہیں ہوئی۔صرف تشریعی نبوت بند ہوئی ہے۔یہ مطلق نبوت جو ان بزرگوں کے نزدیک بند نہیں ہوئی ، المبشرات والی نبوت ہے جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث لم يبقَ مِنَ النُّبُوةِ إِلَّا المُبَشِرَاتُ میں باقی قرار دیا ہے جسے بالفاظ دیگر المبشرات والی نبوت یا نبوت غیر تشریعی کہا جا سکتا ہے۔