شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 134 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 134

نہ ہوا تھا اس لئے آپ ایسا کہنے سے اُمت کو روکتے تھے۔پھر ایک وقت آپ فرماتے ہیں۔لَا تُخَيرُ ونِي عَلَى مُوسی صحیح بخاری جلدم من مصری که مجھے موسی و پر ترجیح مت دو۔لیکن ایک وقت آپ پر ایسا آیا کہ آپ نے فرمایا پہلے اور پچھلے نبیوں کا سردار ہوں۔اَنَا قَائِدُ المُرْسَلِينَ (دیکھو کنز العمال جلد ا مننا) میں نبیوں کا قائد اور راہنما ہوں۔نیز فرمایا فصلت على الانبیاء (صحیح مسلم باب الفضائل) کہ میں تمام نبیوں پر فضیلت دیا گیا ہوں۔اور فرمایا۔لَوْ كَانَ مُوسى حَيَّا لَمَا وَسِعَهُ إِلَّا اتَّبَاعِی اگر موسى زنده ہوتا تو اسے میری پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔پریشان اور مقام کے متعلق تدریجا انکشاف بھی ہرگز قابل اعتراض نہیں۔کیونکہ خاتم النبیین کے مقام کا انکشاف جو ضروریات دین میں سے ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت بعد میں ہوا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو خدا تعالیٰ نے شروع دعوئی ماموریت میں ہی نبی قرار دیا تھا۔چونکہ ہر نبی محدث ضرور ہوتا ہے آپ نے نبی کے لفظ کو محدث اور جزوی نبی کے مفہوم میں سمجھا۔حالانکہ اس کے ساتھ ماموریت کا شمول آپ کو کامل امتی نبی ثابت کر رہا تھا۔مگر مصلحت الہی نے آپ کو اس سے ایک وقت تک نہ روکا جیسے مصلحت الہی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو لَا تُخَيرُونِي عَلَى مُوسَی کہنے سے نہ روکا تھا۔بعد میں خدا تعالے کی تصریح سے آپ نے محض محدثیت اور جزوی نبی کا استعمال ترک کر دیا اور امتی نبی کا لفظ صراحت سے اختیار فرمالیا۔جس طرح رسول کریم