شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 133 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 133

اس نبی پر یکدم کیوں ازل نہیں ہوا ؟ کیونکہ وہ پہلے سن چکے تھے کہ تو رات کے احکام چالیس دن میں نازل ہو گئے تھے۔خدا تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا ہے گذلِكَ نسبت به فُؤَادَكَ که بات اسی طرح ہی ہے۔مگر قرآن مجید کے تدریجاً نازل کرنے سے نبی کے دل کو مضبوط کرنا مقصود ہے۔چونکہ یہ عقیدہ مسلمانوں میں عام طور پر پھیلا ہوا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا اس لئے اللہ تعالے نے مصلحت کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ اسلام پر آپ کا مقام تدریجاً منکشف فرمایا گو آپ ماموریت کے پہلے دن ہی اللہ تعالے کے نزدیک کامل اتنی نبی تھے۔اس طریق میں بنی نوع انسان پر خدا تعالے کی ایک مہربانی اور عنایت کا ثبوت ملتا ہے، تا اس طریق سے اُن کے دل مضبوط ہوں اور جب وہ ایک شخص کی صحبت میں رہ کہ اس کی صداقت کو سمجھ جائیں اور اُس کے روحانی کمالات کا مشاہدہ کریں تو اُن کے لئے اس کے اصل مرتب، اور مقام کا سمجھنا آسان ہو جائے۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شان میں خدا تعالے کے نزدیک پہلے دن سے ہی خاتم النبیین اور افضل النبیین تھے۔مگر خاتم النبیین کے مقام کے متعلق وفی آپ پر وفات سے چند سال ہی پہلے نازل ہوئی۔اور اُس وقت آپ نے امت کو اپنے اس مرتبہ سے آگاہ فرمایا۔پہلے اگر کوئی آپ کو خیر الناس کہہ دیتا تو آپ فرماتے ذَاكَ ابراهیم دمی مسلم جلد ۲ فضائل ابراہیم، یہ ابراہیم کا مقام ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ خاتم النبیین ہی کی شان و مرتبہ تھا کہ دہ خیر الورٹی ہوں۔لیکن چونکہ ابھی آپ پر اپنا مرتبہ پورے طور پر منکشف