شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 128
کے بروزی تہ دل کے قائل ہیں۔چنانچہ وہ اپنی تفسیر القرآن میں لکھتے ہیں :۔وَجَبَ نُزُولُه فِي آخِرِ الزَّمَانِ تَعَلَّتِهِ بِبَدَنِ اخَرَ د تغیر شیخ اکبر محی الدین ابن عربی برحاشیہ عرائس البیان ملا) یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کا تہ دل آخری زمانہ میں کسی دوسرے بدن کے تعلق سے ہو گا۔دیعتی بروزی نزول ہو گا۔حضرت عیسی علیہ السلام اصالتاً نہیں آئیں گے ، پھر اقتباس الانوار ماہ پر بعض صوفیاء کا مذہب لکھا ہے :۔بعضی بر آنند که در عینی در مهدی بروز کند و نزول عبارت از ہمیں بروز است مطابق این حدیث لا مَهْدِي إِلَّا عِيسَى 66 د ابن ماجه " ترجمہ : بعض صوفیاء کا یہ عقیدہ ہے کہ عیسی کی روح (یعنی روحانیت) کا مہدی میں بروزہ ہوگا۔ان لیلی کے نزول سے مطابق حدیث لا مهدى الا عیسی دینی کوئی مہدی نہیں سو ا عیسی کے یہی برو ز مراد ہے۔خريدة العجائب مصنفہ سراج الدین ابی حفص عمرو بن الوردی کے ۲۲ میں لکھا ہے۔ایک جماعت کمانوں کی یہ کہتی ہے کہ عیسی کے نز دل سے مراد یہ ہے کہ ایک ایسا شخص ظاہر ہوگا جو حضرت عیسی سے اپنی بزرگی اور اپنے کمالات ہمیں مشابہ ہو گا۔جس طرح کہ ایک آدمی کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ فرشتہ ہے۔صحیح بخاری وصحیح سلم وسند احمد کی احادیث کے رو سے بھی مسیح موعود کا امت محمدیہ میں سے ہونا ضروری ہے۔(1) كَيْفَ اَنتُم إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُم وَ تان خاتم الندم