شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 127
۱۲۷ پس آتی پر کلام الہی کا نزول مسلم ہے۔پھر سیم موجود کو المبشرات والی نبوت علی وجہ الکمال حاصل ہے۔اسی لئے اسے آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم نے چار دفعہ نبی الله قرار دیا ہے۔اور اس پر وحی کا نزول بھی صحیح مسلم کی اسی حدیث سے ثابت ہے۔پس صحیح بخاری اور مسیح مسلم کی ان دونوں حدیثوں کو ملاکر لَم يَبْقَ مِنَ النبوة إلا المبشرات کے وسیع معنے لینے کی صورت میں وحی الہی کو اُن میں داخل قرار دینا پڑتا ہے۔جو غیر تشریعی نبی کو حاصل ہوتی ہے۔تشریعی نبی اور غیر تشریعی نبی کی وجی میں صرف کیفیت وحی کا فرق ہوتا ہے۔تشریعی نبی کی وحی احکام جدیدہ پر اور امور غیبیہ کثیرہ پر مشتمل ہوتی ہے۔اور غیر تشریعی نبی کی وحی احکام جدیدہ پر مشتمل نہیں ہوتی۔بلکہ امور غیبیہ مشتمل ہوتی ہے۔اس پر شریعت جدیدہ پرمشتمل وحی نہیں آسکتی۔کیونکہ شریعیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کامل ہو چکی ہے۔صرف مبشرات والی کامل وحی آسکتی ہے۔جو غیر تشریعی نبوت ہے۔پس حضرت محی الدین ابن عربی عبد الرحمہ کے نزدیک تشریعی نوشت کے مقابلہ میں غر تشریعی نبوت جو تمام غیر تشریعی انبیاء کو حاصل تھی جزوی حیثیت رکھتی ہے مگر وہ نبوت مطلقہ بہر حال ہوتی ہے۔اور محمد شین اُمت نبوت مطلقہ کے جزوی طور ر حاصل ہوتے ہیں۔اور یہ موجود نبوت مطلقہ کا پورے طور پر حاصل ہے۔شیخ اکبر اور بعض صوفیاء کے نزدیک مسیح کا بروزی نزول مہدی اور بیچ ایک شخص یہ کی معلوم رہے کہ حضرت شیخ اکبری الدین ابن عربی علیه الرمہ حضرت عیسی علیہ سلام