شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 116 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 116

اور محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ محدثیت و غیر تشریعی نبوت قرار دیتے ہیں۔یکی بتا چکا ہوں کہ وہ مسیح موعود علیہ السلام کو بنبوة الاختصاص نبوات مطلقہ کا حامل بلاشک غیر تشریعی نبی قرار دیتے ہیں۔اور پھر اس کے لئے نبی الاولیاء کی اصطلاح بھی استعمال کرتے ہیں۔پس نبوت الولایت علی وجہ الکمال حاصل ہو تو اُن کے نزدیک نبوت مطلقہ کی قسم غیر تشریعی ہوتی ہے۔چنانچہ حضرت عبد الکریم جیلانی " اپنی کتاب الانسان الکامل “ میں تحریرہ فرماتے ہیں :- إن كَثِيرًا مِنَ الأَنْبِيَاءِ نُبُوتُهُ نُبُوَةُ الوَلايَةِ كَالْخِصْرِ فِي بَعْضِ الأَقْوَالِ وَكَعِيسى إِذَا نَزَلَ إِلَى الدُّنْيَا فَإِنَّهُ لا يَكُونُ لَهُ نُبُوَّةً تَشْرِيْعٍ وَكَثِيرٍ مِنْ بَنِي إسرائيل ر الانسان الكامل منلث) بینی بہت سے انبیاء کی نبوت نبوت الولایت ہی تھی جیسا کہ حضرت خضر علیہ السلام کی نبوت بعض اقوال میں اور جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت۔جب وہ دنیا کی طرف نازل ہوں گے تو اُن کی نبوت تشریعی نہیں ہوگی۔اور اسی طرح بہت سے بنی اسرائیل کا حال ہے۔یعنی ان کی نبوت نبوت الولایت تھی نہ کہ تشریعی نبوت - پھر وہ تحریر فرماتے ہیں :- " كُل نَبِيَّ وَلَايَةٍ أَفْضَلُ مِنَ الْوَلِي مُطْلَقًا وَ مِنْ ثَمَّ يل بَدَايَةُ النَّبِيِّ نَهَايَةُ الْوَلِي فَافُهُمْ وَتَأَمَّلُهُ فَاتَهُ قَدْ خَفَى عَلَى كَثِيرٍ مِنْ أَهْلِ مِلَّتِنَا ( الانسان الكامل منه )