شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 98
نیز فرماتے ہیں :- جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ لگتا ہے اس کا ان حدیثوں میں یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی بھی ہوگا اور اتنی بھی مگر کیا مریم کا بیٹا اتی ہو سکتا ہے ؟ کون ثابت کرے گا کہ اُس نے براہ راست نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے درجہ نبوت پایا تھا " رحقیقة الوحی من حضرت علیلی مجن کے دوبارہ آنے کے بارہ میں ایک جھوٹی امید اور جھوٹی طمع لوگوں کو دامنگیر ہے وہ امتی کیونکر بن سکتے ہیں ؟ کیا آسمان سے اُتر کر نے مرے دو مسلمان ہونگے ؟ یا کیا اس وقت ہمارے نبی لی الہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء نہیں رہیں گے ؟ مکتوب خبر عام اسی من پس ایک ستنقل نبی کا ختم نبوت کی بہر توڑے بغیر امتی نبی بنا محال ہے۔کیونکہ جب تک اس کی پہلی نبوت مستقلہ زائل نہ ہو وہ امتی نبی نہیں بن سکتا۔اگر حضرت عیسی سے مستقلہ نبوت زائل کر کے اُن کا امتی نبی بنایا جا تا فرض کیا جائے تو امتی نبی کا مرتبہ ملنا خاتم النبیین صلی الہ علیہ وسلم کی مہر سے ممکن ثابت ہوا۔لہذا کیا ضرورت ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام پر ختم نبوت کی جو مہر لگی ہوئی ہے اُسے توڑا جائے ؟ مسیح موعود کا نام ابن مریم بطور استعارہ ہے و کیوں نہ یقین کیا جائے کہ امت محمدی میں آنے والاسیح موعود در حقیقت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ سلم کا ایک حقیقی انتی فرد ہے۔اور اُسے صرف پروزہ اور استعارہ کے طور پر