شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 97
96 نہیں بلکہ ان کے علاوہ خواندہ لوگوں میں سے ہیں۔لَمَّا يَلْحَقُوبِهِمْ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ آخرین آیت کے نزول تک ان امتیوں کو لاحق نہیں ہوئے بمعنی صحابہ نہیں ہے بلکہ غیر اتیوں میں کرسل الاسلام ظاہر ہونے پر صحابہ سے لاتی ہوں گے یعنی صحابہ کا درجہ پائیں گے۔مولوی محمد اور بیس صاحب ظلیت کے متعلق یہ بھی لکھتے ہیں :۔علاوہ ازیں یہ طلبت امت محمدیہ کے تمام علماء و صلحاء کو حا صل ہے اس میں مرزا صاحب کی کیا خصوصیت ہے۔امت میں جو بھی کمال ہے حضور کی نبوت کا سایہ اور پر تو ہے “ مولوی صاحب ! اسے کہتے ہی ای برای نجاری ابا اور بانی اصلی ارامت بخت کے اخلال میں تو ظلمیت پچور دروازہ نہ رہا بلکہ شاہراہ ثابت ہوا ، حضرت مرزاحمت کی خصوصیت یہ ہے کہ انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ ولم نے نبی الہ قرار دیا ہے اور دوسرے مصلحاء کو آپنے نبی اللہ نہیں کہا۔کیونکہ مسیح موعود آنحضرت کا حقیقی قبل اور بروز ہے اور علماء ربانی او صلی امت مجازی اخلال و بروز ہیں۔دونوں کی طلبت ہیں یہ فرق ظاہر ہے۔حضرت عیسی کی آمد سے مہر ختمیت ٹوٹی - حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں :- لیکن اگر حضرت علی دوبارہ دنیا میں آئے تو بغیر خاتم النبیین کی مہر توڑنے کے کیونکہ دنیا میں آسکتے ہیں ؟ (اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ) کیونکہ ختم نبوت کی مہر جوحضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت مستقلہ پر لگ چکی ہے جب تک دہ شہر نہ ٹوٹے وہ اتنی نبی بن نہیں سکتے۔