شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 25 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 25

۲۵ اور اس نبوت سے مراد صرف مکالمہ خطبہ الہتہ یا بالفاظ دیگر المبشرات کی کثرت ہے۔اب اگر المبشرات کو کوئی شخص ایک قسم کی نبوت قرار نہ دے تو یہ اس کی آپ سے صرف نزاع لفظی ہوگی بینی صرف ایک اصطلاحی نزاع ہوگی نہ کہ کوئی حقیقی نزاع۔کیونکہ جیں مکالمہ کو علماء امت جاری مانتے ہیں بائی سلسلہ احمدیہ اسی کو ایک خاص اصطلاح میں خدا کے حکم سے نبوت کا نام دے رہے ہیں۔پس حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اور علماء زمانہ ہذا کے درمیان دراصل کوئی حقیقی نزاع موجود نہیں۔علماء ربانی تو آپ سے اس ارہ میں غلطی نزاع بھی نہیں رکھتے۔کیونکہ وہ " المبشرات“ کے مقام کو ایک قسم کی نبوت ہی قرار دیتے ہیں۔جیسا کہ اس بارہ میں حضرت محی الدین ابن عربی و کی عبارت پیش کی جاچکی ہے۔اس مکالمہ مخاطبہ الہیہ کو ہی مدنظر رکھتے ہوئے حضرت مولانا جلال الدین رومی مثنوی دفتر اول ۵۳۰ د مطبوعہ مولوی فیروز الدین ) میں فرماتے ہیں :- نکر کن در راه نیکو خدمتے کا تا نبوت یابی اندر اتنے یعنی اے شخص تو نیکی کی راہ میں ریعنی آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع کی، ایسی تدبیر کر کہ تجھے اُمت کے اندر نبوت مل جائے۔حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ اپنے مکتوبات میں ایک سوال لکھ کر اُس کا ایسا جواب دیتے ہیں جس سے الہام الہی کی ضرورت کا امت محمدیہ میں ثبوت ملتا ہے :- سوال: چون دین به کتاب و سنت کامل گشت بعد از کمال با الهام چه احتیاج بود و چه نقصان مانده که بالهام کامل گردد؟ یعنی جب دین کتاب اللہ یعنی قرآن مجید و سنت نبوی کے ذریعہ کامل ہوگیا تو اس کے 1