شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 198
١٩٨ مردی ہے تاہم ہمیں اس کا بھی بہت احترام ہے۔یہ قرأت بھی اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی رحمت ہے۔جیسا کہ آگے چل کر آپ اس کا اثر معلوم کریں گے۔آب میں اس قرأت کی حقیقت بیان کرتا ہوں۔میں مصدر ختم کے مفردات راغب سے حقیقی معنے بیان کرتے ہوئے یہ بتا چکا ہوں کہ لفظ خاتم تا کی زیر سے ہو یا خاتیم تار کی زیر سے دونوں کا مصدر ختم ہے۔خاتم تار کی زیر سے ہم آلہ ہے اور خانیم تار کی زیر سے اسم فاعل ہے۔گو مصدر سے ان کا اشتقاق کرتے ہوئے ان کی بناوٹ میں یہ فرق ہے مگر انجام اور نتیجہ کے لحاظ سے ان دونوں کے مفہوم میں کوئی فرق نہیں۔اگر خاتم بفتح تاء کے معنے مصدری معنے کے لحاظ سے تأثیر کا ذریعہ ہیں تو خاتیم بکسر تار کے معنے بلحاظ اسم فاعل تاثیر کر نے والا ہیں بھیٹھ اُردو زبان میں خاتم النبیین کے معنی نبیوں کی مہر ہیں تو خاتم النبیین کے معنی مہر کرنے والا یا صاحب خاتم یعنی مہر والا نبی ہیں۔پھر خاتم بفتح تار کے مجازی سے مفردات راغب کے بیان کے مطابق بندش - روک اور آخری ہیں تو خاتم بکسر تاء کے مجازی معنے ختم کرنے والا ہیں۔لہذا حقیقی اور مصدری معنوں کے لحاظ سے دونوں قراتوں کا مفہوم یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تاثیر قدسیہ کے ذریعہ نقوش انبیاء کو جن کو آپ اپنی ذات میں جمع رکھتے ہیں دوسرے شخص میں منعکس کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔اور آپ کی کامل پیروی سے اور آپ کی محبت میں فنا ہو کہ آپ کا ایک کامل اتنی مقام نبوت کو بطور موہبیت الہی حاصل کر سکتا ہے۔