شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 197 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 197

196 محی الدین ابن عربی علیہ الرحمۃ نے لکھا ہے کہ اس حدیث سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہے کہ میرے بعد کوئی شریعت لانے والا نبی نہیں۔نہ یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔بَلْ إِذَا كَانَ يَكُونُ تَحْتَ حُكُم شَرِيعَتِي بلکہ میری مراد یہ ہے کہ جب بھی کوئی نہی ہوگا میری شریعت کے حکم (فتوحات مکیہ جلد ۲ مت ) کے ماتحت ہوگا۔ر" مولانا محمد قاسم صاحب علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں :- سو اگر اطلاق اور عموم ہے تو تب تو خاتمیت زمانی ظاہر ہے در نہ تسلیم از دم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ظاہر ہے د تحذیر الناس ) یعنی یا تو خاتم کو عام او مطلق قرار دے کر رہتی اور زمانی خاتمیت دونوں کو جمع مانو یا پھر خاتم النبیین کے معنی حقیقی خاتمیت مربی یعنی نبوت ہیں موثر وجود قرار دو۔اور خاتمیت زمانی کو بدلالت التزامی ان معنوں کے ساتھ بطور لازمی معنوں کے تسلیم کرو مگر خاتمیت زمانی آپ کے نزدیک ایک محدود معنوں میں ہے۔کیونکہ آپ مسیح نبی اللہ کی آمد کے قائل ہیں۔خاتم النبیین کی دوسری قرأت مام السبت ان کی ایک دوسری قرات خاتم البستان خاتم کی تار کی زیر سے بھی آئی ہے۔گو یہ قرأت متواترہ نہیں اور نہ یہ کسی صحابی سے عه به معنی آخری شارع نبی اور آخری مستقل نبی ہیں۔منہ