شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 19 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 19

14 کے ذریعہ شریعیت کا ملہ آجانے کی وجہ سے تاقیامت بند ہے۔اس حدیث کی تركيب لَمْ يَبْقَ مِنَ الْمَالِ إِلَّا الْفِضَة کی طرح واقع ہوئی ہے۔یعنی مال میں سے چاندی کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔ظاہر ہے کہ چاندی مال کی ہی ایک قسم ہے۔پس علمائے ربانی کار اسے ایک قسم کی نبوت قرار دینا اسی بناء پر ہے کہ اس حدیث کے ڈر سے المبشرات بہر حال نبوت مطلقہ کی ایک قسم ہے جو امت کے لئے پانی قرار دی گئی ہے۔یا نبوت تامہ کاملہ محمدیہ کا ایک حصہ بانی ہے جو امت محمدیہ کے لئے منقطع نہیں ہوا۔علماء ربانی کی اس تشریح کی موتیہ وہ حدیث نبوی بھی ہے جو نواس بن سمعان کی روایت سے صحیح مسلم باب خروج الدجال میں موجود ہے جس میں خود آنحضرت سے اللہ علیہ وسلم نے اُمت محمدیہ کے مسیح موعود کو چار دفعہ نبی اللہ قرار دیا ہے۔اور یہ فر مایا ہے کہ اس پر دھی نازل ہوگی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :۔وَيُحْصَرُ اللهِ وَ اَصْحَابُهُ۔۔۔۔فَارُغَبُ إِلَى اللَّهِ عِيسَى وَاَصْحَابُهُ ثُمَّ يَهْبِطُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ (ايضاً - مشکواۃ باب العلامات بين يدى الساعة وذكر الدجال اس جگہ علیلی نبی اللہ سے مراد استعادة امت محمدیہ کا مسیح موعود اور امام مہدی ہے۔کیونکہ صحیح بخاری کی حدیث میں امت محمدیہ میں نازل ہونے والے عیسی کو رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم نے اما مگر مشکور اور سیخ سلم کی روایت کے مطابق فامکو میشکفر اور مسند احمد کی روایت کے مطابق اما ما مَهْدِيَّا قرار دیا ہے۔