شَانِ خاتَم النّبیّین

by Other Authors

Page 122 of 280

شَانِ خاتَم النّبیّین — Page 122

۱۲۲ جبرائیل علیہ السّلام شروع سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور آپؐ سے مکالمہ کرتے رہے۔اور آخر میں آپ کو اسراء کے واقعات کی تعبیر بھی بتائی۔پس اسراء رویا تھا۔اور اس میں وحی الہی کا سلسلہ بھی جاری تھا۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ رویا کا لفظ اپنی ذات میں وسیع معنے بھی رکھتا ہے۔اور وحی الہی پر بھی مشتمل ہوتا ہے۔کیونکہ جبرائیل کی گفتگو بہر حال وحی الہی ہی تھی۔نبوت کے چھیالیسویں عدت کی تشریح انتشارات کو سول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک حدیث میں رویا صالحہ اور پھر رویا صالحہ کو ایک حدیث میں نبوت کا چھیالیسواں حصہ قرار دیا ہے۔اس سے آپ کی یہ مراد نہیں کہ یہ المبشرات غیر تشریعی نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہیں۔کیونکہ المبشرات کو پانے کی وجہ سے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت محمدیہ کے بسیح موعود کو نبی اللہ قرار دیا ہے۔اور یہ نہیں فرمایا کہ اس کی نبوت غیر تشریعی نبوت کا ملہ نہیں ہوگی۔ہاں المبشرات کو نبوت تشریعی کا جزو تو قرار دیا جا سکتا ہے۔مگر چونکہ شریعیت، نبوت پر امر عارض ہے نہ کہ سبز و ذاتی۔اس لئے غیر تشریعی نبوت اپنی ذات میں نبوت کا ملہ ہوتی ہے جیسا که قبل ازیں حضرت محی الدین ابن عربی وغیرہ بزرگان اُمت کے اقوال سے ثابت کیا جا چکا ہے کہ نبوت مطلقہ کے لئے شریعت کا لانا ضروری نہیں۔حضرت محی الدین ابن عربی اور اُن کے متبع میں امام عبد الوہاب شعرانی کے نزدیک رویا صالحہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا چھیالیسواں حصہ