سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 85
85 انگریز کی جگہ خالی ہوئی اور وہ موقع مجھ کو دے دیا گیا۔اس آسامی پر گو تنخواہ کا تو کوئی خسارہ نہ تھا مگر سفر کی وجہ سے مجھے تکلیف تھی اس لئے میں نے رخصت لے لی اور حضور کے پاس جولائی ۱۹۲۹ء میں کشمیر چلا گیا۔تا کہ دعا کر اسکوں۔وہاں ایک ماہ رہا کہ اچانک لاہور سے کشمیر اطلاع گئی کہ تم پہلی آسامی پر ۲۰۰ روپیہ پر پھر پشاور چلے جاؤ۔غرض میری ہر ترقی غیر معمولی طور پر ہوئی۔میں سٹاف وارڈن حضور کی دعاؤں سے نامزد ہوا۔باقی سب منتخب ہوئے۔میری موجودہ ترقی بطور لیبر وارڈن بھی غیر معمولی طور پر حضور کی دعاؤں سے ہوئی کیونکہ میں ان منتخب شدہ امیدواروں کی فہرست میں نہ تھا بلکہ میرے ایک دوسرے غیر احمدی ہمعصر تھے جو اس غیر ممکن بات کے ممکن ہونے پر اب تک خفا ہیں اور احمدیوں سے بھی خفا ہیں کہ ہماری آسامیوں پر چھاپا مار لیتے ہیں۔(۲۸ دسمبر ۱۹۳۹ء صفحه ۵۱) مکرم مولوی ظہور حسین صاحب دعا گو منکسر المزاج بزرگ تھے نو جوانی کی عمر میں خدمت اسلام کے لئے روس تشریف لے گئے اپنے مقصد سے لگن اور قربانی کی شاندار مثال قائم فرمائی۔حضور کی دعاؤں کی قبولیت کے متعلق وہ ایک عجیب تجربہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- ۲۴۔۱۹۲۵ء میں تاشقند کے قید خانہ میں مجھ پر شبہ کیا گیا کہ میں انگریزوں کا جاسوس ہوں۔اس وجہ سے مجھے جو تکلیفیں قید خانہ میں دی گئیں ان میں سے ایک یہ تھی۔ایک رات مجھے قید تنہائی کے کمرہ سے نکال کر تین چار سپاہیوں نے سخت ماراحتی کہ میرے جسم کے اکثر حصے زخمی ہو گئے۔آخر جب مجھے اچھی طرح پیٹ چکے تو میرے دونوں ہاتھ پیچھے کی طرف انہوں نے کس کر باندھ دیئے پھر میری ٹانگیں اور سینے اور بازوؤں کو رستے سے باندھ دیا اور ایک چوڑا تختہ لا کر اس پر مجھے جکڑ دیا اور اسی حالت میں مجھے ایک اندھیرے کمرے میں ڈال گئے۔اس وقت میں نے یہ دعا کی کہ اے میرے خدا! میں تمام نبیوں اور آنحضرت صلی اللہادی اورمسلم کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ تو میرے پیارے امام کو میری اس تکلیف سے خبر دے تا وہ تیرے حضور دعا کریں اور پھر تو قبول کر کے میرے لئے سہولت پیدا کرے۔صبح مجھ کو یقین ہو گیا کہ حضور میرے لئے دعا فرما رہے ہیں۔دراصل انہی دعاؤں کا نتیجہ تھا کہ میں وہاں سے تقریباً دو سال قید رہنے کے