سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 73 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 73

73 خلیفة المسیح الثانی بالکل نوعمر ہیں ابھی علم و تجربہ، ذاتی وجاہت اور وقار بھی اتنا حاصل نہیں ہوا جو خلافت جیسے اہم ترین مقام کے لئے موزوں ہو جماعت کا کام اور احمدیت کی اشاعت اور تبلیغ بڑا اہم اور مشکل کام ہے اور تجربہ کار لوگ آپ سے علیحدہ ہو چکے ہیں یہ اتنا بڑا کام آپ کیونکر سنبھال سکیں گے اور کیونکر یہ چل سکے گا۔۔۔۔۔۔۔اس نظارہ کے ذریعہ سے میرے دل میں یہ اذعان پیدا کیا گیا کہ گویا اپنی جماعت کا کام خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی انجام دے رہے ہیں۔بیان نواب اکبر یار جنگ بہادر۔الفضل جوبلی نمبر صفحه ۱۴) عبادات اور دعاؤں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسی کیفیت عطا فرماتا ہے کہ پھر کچھ مانگنے اور دعا کرنے سے انسان بچتا ہے اور رضا بالقضاء کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو جاتا ہے۔حضرت مصلح موعود کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کا ایسا کریمانہ سلوک تھا کہ جو آپ نے مانگا اس سے بڑھ کر عطا فرمایا حضور فرماتے ہیں:- و مجھے اپنی زندگی میں ہمیشہ ہنسی آتی ہے اپنی ایک بات پر ( مگر یہ ابتدائی مقام کی بات تھی اور اعلیٰ مقام ہمیشہ ابتدائی منازل کو طے کرنے کے بعد ملتا ہے اور ابتدائی مقام یہی ہوتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے میں نے خدا سے مانگنا ہے ) کہ میں نے بھی خدا سے کچھ مانگا اور اپنے خیال میں انتہائی درجہ کا مانگا مگر مجھے ہمیشہ ہنسی آتی ہے اپنی بیوقوفی پر اور ہمیشہ لطف آتا ہے خدا تعالیٰ کے انتقام پر کہ جو کچھ ساری عمر کے لئے میں نے مانگا تھا وہ بعض دفعہ اس نے مجھے ایک ہفتہ میں دے دیا۔میں زمین پر شرمندہ ہوں کہ میں نے حماقت کیا کی اور اُس سے کیا مانگا اور وہ آسمان پر ہنستا ہے کہ اس کو ہم نے کیسا بدلہ دیا اور کیسا نادم اور شرمندہ کیا پھر میں نے سمجھا کہ مانگنا بھی فضول ہے کیوں نہ ہم اللہ تعالیٰ سے ایسا تعلق پیدا کریں کہ وہ ہمیں بے مانگے ہی دیتا چلا جائے۔۔۔۔(الفضل ۶۔اکتوبر ۱۹۴۹ صفحه ۴ کالم نمبر۴) ایسا ہی ایک اور جگہ آپ فرماتے ہیں :- حقیقت یہ ہے کہ جو شخص خدا کے لئے قربانی کرتا ہے خدا خود اس کا مددگار ہو جاتا ہے۔آخر ہمارے وقف کے دو ہی نتیجے ہو سکتے ہیں یا تو ہمیں ملے یا نہ ملے۔میں ہمارے کا لفظ اس لئے کہتا ہوں کہ میں بھی جوانی سے دین کی خدمت کے لئے وقف ہوں اور میں جب دین کی خدمت کے لئے آیا تھا اس وقت میں 66