سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 72 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 72

72 حکیم محمد موصیل صدر جماعت محمد آباد لکھتے ہیں :- حضور کی سندھ میں تشریف آوری کی وجہ سے لوگوں نے احمدیوں کی مخالفت کی۔میری پھوپھی زاد بہن جو کہ احمدی تھی اس کا ۸/۷ سال کا لڑ کا نورالدین فضلا ئی کو سکول کے بچوں نے گالیاں دیں دوسرے دن میں ان کو حضور کی خدمت میں لے گیا۔اور واقعات سنائے اور عرض کیا حضور! اس بچے کے لئے دعا فرمائیں کہ احمدی ہو۔پھر خدا کے فضل سے بڑا ہو کر احمدی ہوا حالانکہ ان کے والد صاحب نے اب تک بیعت نہیں کی۔اس بچے نے حضور کی تشریف آوری سے ایک رات پہلے رویا میں دیکھا تھا کہ میں بازار کے چوک میں کھڑا ہوں۔دیکھا کہ ایک شخص شیر پر سوار ہے اور اس کے پیچھے بہت لوگ آ رہے ہیں۔میں نے ان سے پوچھا یہ کون ہے ایک نے کہا یہ مرزا محمود احمد ہے۔میں نے ان سے پھر دریافت کیا کہ یہ کیسا آدمی ہے۔تو کہا آج کی دنیا میں سب سے بڑا ولی اللہ ہے۔میں نے عرض کیا کہ آپ اب تو بیعت کریں گے فرمایا ہاں انشاء اللہ بیعت کرونگا۔مگر افسوس کہ لوگوں کی مخالفت دیکھ کر بیعت نہیں کی اور ڈر گیا اب تو یہ کہتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا تعالیٰ کے برگزیدہ ہیں لیکن بیعت نہیں کی۔“ ( ریکارڈ فضل عمر فاؤنڈیشن ) ایک ایمان افزا نظارہ نواب اکبر یار جنگ بیان کرتے ہیں:۔(۱۹۱۶ ء موسم گرما کی تعطیلات میں )۔حضرت مصلح موعود مسجد مبارک کی چھت پر بعد نماز مغرب امامت کے مصلی پر ہم لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے تھے اور کئی لوگ حضور کے ہاتھ اور پاؤں داب رہے تھے میں آپ کے سامنے کچھ فاصلہ پر خاموش بیٹھا رہا آپ بھی آنکھیں نیچی کئے ہوئے خاموش بیٹھے رہے۔میں کھلی آنکھوں سے سامنے بیٹھا ہوا آپ کو دیکھ رہا تھا۔نہ میں نے کوئی مراقبہ کیا تھا۔نہ گردن جھکائی تھی کہ دفعتہ میں نے کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت مصلح موعود خلیفتہ اسیح الثانی کی پشت پر نمودار ہوئے اور میرے دیکھتے دیکھتے حضرت خلیفہ امسیح الثانی کے اندر اس طرح سما گئے جس طرح کوئی ہتھیارا اپنے نیام میں سما جاتا ہے۔جس وقت میں نے یہ نظارہ دیکھا اس وقت میں اپنے دل میں خیال کر رہا تھا کہ حضرت