سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 66
66 وہ میرے لئے اپنی قدرتیں دکھاتا ہے مگر نادان نہیں سمجھتا۔یہ زمانہ چونکہ بہت شبہات کا ہے اس لئے میں تو اس قد را حتیاط کرتا ہوں کہ کوشش کرتا ہوں دوسروں سے زیادہ ہی قربانی کروں۔دو پس یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت کو دیکھتے ہوئے میں انسانوں پر انحصار نہیں کر سکتا اور تم بھی یہ نصرت اس طرح حاصل کر سکتے ہو کہ اطاعت کا اعلیٰ نمونہ دکھاؤ اور ایسا کرنے میں صرف خلیفہ کی اطاعت کا ثواب نہیں بلکہ موعود دخلیفہ کی اطاعت کا ثواب تمہیں ملے گا اور اگر تم کامل طور پر اطاعت کرو تو مشکلات کے بادل اُڑ جائیں گے تمہارے دشمن زیر ہو جائیں گے اور فرشتے آسمان سے تمہارے لئے ترقی والی نئی زمین اور تمہاری عظمت وسطوت والا نیا آسمان پیدا کریں گے لیکن شرط یہی ہے کہ کامل فرماں برداری کرو۔جب تم سے مشورہ مانگا جائے مشورہ دو ورنہ چُپ رہو۔ادب کا مقام یہی ہے لیکن اگر تم مشورہ دینے کے لئے بیتاب ہو تو بغیر پوچھے بھی دید و مگر عمل وہی کرو جس کی تم کو ہدایت دی جائے۔ہاں صحیح اطلاعات دینا ہر مومن کا فرض ہے اور اس کے لئے پوچھنے کا انتظار نہیں کرنا چاہئے باقی رہا عمل اس کے بارہ میں تمہارا فرض صرف یہی ہے کہ خلیفہ کے ہاتھ اور اس کے ہتھیار بن جاؤ تب ہی برکت حاصل کر سکو گے اور تب ہی کامیابی نصیب ہوگی۔“ (الفضل ۴۔ستمبر ۱۹۳۷ء صفحه ۹) قبولیت دعا اور اس کی چند مثالیں حضرت سیدہ مہر آپا حرم حضرت فضل عمر نے حضور کی قبولیت دعا کے بعض واقعات بیان کئے ہیں ان میں سے دو واقعات درج ذیل ہیں جو آپ کے قرب الہی اور قبولیت دعا میں ایک بلند مقام پر دلالت کرتے ہیں۔آپ فرماتی ہیں: مصلح موعود حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے مستجاب الدعوات کے صحیح معنی مجھے معلوم نہ تھے۔اس کے صحیح معنے مجھے اُس وقت معلوم ہوئے جب مستجاب الدعوات کا منظر میں نے اپنی آنکھوں۔