سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 57
57 مذہبی دشمنی و منافرت کو پھیلانے کا مزید سد باب ہو سکے۔ہندو پریس نے اسلام کی اس کروٹ پر جس فکرمندی کا اظہار کیا تھا اس کے نتیجہ میں جماعت کو خوفناک مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔۱۹۲۷ء ، ۱۹۲۸ء کے سیرت کے کامیاب جلسوں اور اتفاق واتحاد کے مظاہر کو سبوتا شرکرنے کے لئے ۱۹۲۹ء میں ہند وسرمایہ کے زور پر نیشنلسٹ مسلمانوں کے بھیس میں مجلس احرار کا قیام عمل میں آیا اور اس طرح ہندو اور ایسے مسلمانوں کے گٹھ جوڑ سے مسلمانوں کے اتحاد کی کوششوں کو نا کام کرنے کے لئے کام شروع ہو گیا۔جماعت کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور یہ سلسلہ برابر جاری ہے مگر اس مخالفت کے مذکورہ پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے بلا تامل کہا جا سکتا ہے کہ اگر یہ عشق رسول کے تقاضوں کو پورا کرنے کی قیمت ہے تو کوئی گراں قیمت نہیں ہے۔مذکورہ مجلس اور ان کی ہم خیال ٹولیوں کی شدید معاندانہ کوششوں کے عَلَی الرَّغْم جماعت کی غیر معمولی ترقی اور خدائی برکات کا جس کثرت سے نزول ہوا اور برابر ہوتا چلا جا رہا ہے اسے دیکھ کر ہمارے دل شکر سے لبریز ہیں کہ ؎ تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد تیری خاطر سب بار اٹھایا ہم نے