سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 54
54 اس کا انگریزی ترجمہ بھی بڑی کثرت سے شائع ہوا۔دہلی کے جلسہ کی رپورٹ اخبار ” منادی“ میں شائع ہوئی۔اخبار نے لکھا: سوا نو بجے رات کو پریڈ کے میدان میں سیرت رسول کی نسبت جلسہ ہوا۔دس ہزار کا مجمع تھا۔ہندو مسلمان مقرروں کی نہایت عمدہ تقریریں ہوئیں۔جلسہ بہت کامیاب ہوا۔بارہ بجے تک رہا۔آج تک دہلی میں کوئی مشتر کہ جلسہ ایسی کامیابی سے نہ ہوا ہوگا“ ( منادی ۲۳ - جون ۱۹۲۸ء بحوالہ الفضل ۱۷۔جولائی ۱۹۲۸ ، صفحہ ۷ ) اخبار مشرق نے لکھا : - جناب امام صاحب جماعت احمدیہ کئی مہینے سے یہ اعلان فرما رہے ہیں کہ ۲۰۔جون کو ایک ہزار ایسے مسلمانوں کی ضرورت ہے جو فضائل ومحامد حضرت ختم المرسلین صلعم پر لیکچر دے سکیں۔۔جناب امام صاحب جماعت احمدیہ بہت زیادہ اسلامی کار ہائے نمایاں میں جو دلچسپی رکھتے ہیں اس سے ان کی للہیت کا پتہ چلتا ہے اور یہ کوئی معمولی کام نہ ہو گا۔خدا کے فضل سے یہ تقریریں بہت کارآمد ہوں گی اور ان کی جو کتاب بن کر پریس سے نکلے گی وہ ایک تاریخی یادگار ہوگی۔مشرق ۲۲ مارچ ۱۹۲۸ء صفحہ ۲۔بحوالہ الفضل ۲۰۔اپریل ۱۹۲۸ء صفحہ ۹) اس کے علاوہ مندرجہ ذیل اخباروں نے بھی اس تجویز کو سراہتے ہوئے بڑے زور دار الفاظ میں تائیدی بیان شائع کئے۔اخبار مخبر اودھ، اخبار سلطان کلکتہ، اخبار کشمیری لاہور، اردو اخبار ناگپور، اخبار ہمدم لکھنو، وکیل امرت سر، حقیقت خادم المؤمنین ، منادی دہلی ، پیشوا، حق ،تو حید کراچی خدا تعالیٰ کے فضل سے ۱۷۔جون ۱۹۲۸ء کو ملک بھر میں پہلی دفعہ بڑے جوش و جذبہ کے ساتھ سیرت کے جلسے منعقد ہوئے جن میں مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے سعید فطرت لوگوں نے بڑے جوش وخروش سے شامل ہو کر اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کیا۔ہندوستان کی تاریخ میں مختلف الخیال لوگوں کا ایک پلیٹ فارم سے حضور صلی اللہادی اور سلم سے اظہار عقیدت کا یہ ایسا مظاہرہ تھا کہ جس کی تاریخ میں پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔اخبار مشرق نے ان جلسوں کی کامیابی پر امام جماعت احمدیہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے !