سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 626
563 یعنی صاحبزادہ میاں مبارک احمد صاحب سلمہ ، ملک عمر علی صاحب مرحوم، مکر می غلام محمد صاحب اختر اور یہ عاجز حشمت اللہ۔رئیس مذکور نے پھر کہا کہ حضور میں اب آپ کا ہی ہو گیا ہوں۔میں اس وقت سفر سے واپس اپنے گھر کو جا رہا ہوں اگر حضور فرما ئیں تو میں حضور کے ہمراہ ہی قادیان چلتا ہوں یا اگر اجازت فرمائیں تو گھر اطلاع دے کر کل قادیان کے لئے چل پڑونگا حضور نے ملتان ٹھہرنے کی اجازت دے دی اور وہ رئیس حسب وعدہ قادیان تیسرے دن پہنچ گیا۔حضور نے اس کو ملاقات کا شرف بخشا اور پاک کلمات فرمائے۔تب وہ اجازت لے کر اس وقت گھر واپس چلا گیا اور بعد میں قادیان آ کر بھی حضور کی زیارت کا شرف حاصل کیا“ ایک نئے دور کا وہ بانی تھا ایک غیر از جماعت شاعر، مکرم شیخ روشن دین صاحب تنویر مدیر الفضل کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں :- حضرت بشیر الدین محمود احمد صاحب کا سانحہ ارتحال صرف جماعت احمدیہ کے لئے نہیں بلکہ ان بیشمار ارباپ نظر کے لئے بھی پیغام درد ہے جو ان کے افکار و اعمال سے ذہنی روحانی فیضان حاصل کرتے تھے۔یقین کیجئے میں ایک غیر احمدی ہوں مگر ریڈیو پر حضور کی وفات حسرت آیات کی خبر سن کر چونک پڑا فرط جذبات سے فراموشی کا عالم طاری ہو گیا۔اس وقت ایک شاعر پر کیا گزرتی ہے اسے آپ کا دل جانتا ہو گا۔ساز روح کے تار جھنجھنا اٹھے درد میں ڈوبی ہوئی لے میں ایک ٹوٹا پھوٹا نغمہ اُبھرا جسے نذرعقیدت کے طور پر ارسال کر رہا ہوں۔میں اس حادثہ میں آپ کے غم میں برابر کا شریک ہوں خدا سب کو صبر جمیل کی توفیق بخشے : ڈرے میں انتشار ذرے ہے آج روح کونین بے قرار ہے آج چھن گئی کیا امانت کبری گیسوئے قوم کی قوم روزگار گل کی آنکھوں میں اشک سو گوار ہے آج برہم ہیں ہیں آسماں تک اداس ہیں گویا چاند تارے شریک ماتم ہیں