سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 612
548 میں آپ کو حضور کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔۱۹۵۰ء میں اپنے کوئٹہ کے قیام کے دوران حضرت صاحب نے سٹاف کالج کے تمام افسران کی دعوت کی میں بھی مدعو تھا، چائے ختم ہوئی تو حضور تقریر کے لئے کھڑے ہوئے اور ابتداء اس طرح کی کہ پاکستان کو جغرافیائی اور فوجی نقطہ نظر سے کہاں کہاں سے اور کس طرح خطرہ ہو سکتا ہے۔میرے دل میں خیال آیا کہ اب تو وقت کا ضیاع ہوگا کیونکہ ایک مذہبی راہنما کو فوج کے نقطہ نظر کی کیا خبر اور خطرات کی نشاندہی سے کیا کام۔دراصل میں اپنے آپ کو اس علم کا ماہر سمجھتا تھا اس لئے طبیعت میں اکتاہٹ محسوس ہوئی لیکن جب انہوں نے یہ مضمون ختم کیا اور اپنی تقریر ختم کی تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ آج پہلے دن میں نے سٹاف کالج میں داخلہ لیا ہے۔جس شخص کو خدا نے ایسا زبردست دماغ دیا ہو اور غیر متعلقہ علوم میں اس کی دسترس اس غضب کی ہو ، دینی علوم میں اس کے ادراک کا کیا عالم ہوگا ؟ مکرم منشی محمد اعظم صاحب جو جماعت میں شامل نہیں تھے ۱۹۲۳ء کے جلسہ سالانہ پر قادیان گئے اور بقول ان کے وہاں تمام دنیا جہان سے زائد نظارہ دیکھا وہ لکھتے ہیں : اس میں کلام نہیں جلسہ (سالانہ ) بہت بارونق کوئی گیارہ بارہ ہزار مردوزن کی تعداد سے پر تھا۔اس عظیم الشان ہجوم میں جہاں کہ ایک کو دوسرے کی مطلق خبر نہیں ہوتی باہم دگر اخلاص کی یہ حالت تھی کہ ایک بھائی دوسرے بھائی کی آمد پر اس آسانی سے جگہ خالی کر دیتا تھا گویا یہ جگہ اس کے لئے پہلے سے مخصوص تھی اور اس طرح اس کو حفاظت میں لے لیا جاتا تھا جس طرح ماں اپنے بچہ کو آغوش میں لے لیتی ہے۔اس خوش اسلوبی اور یگانگت کا نظاره تمام دنیا ئے جہاں سے نرالا بجز قادیان کی مقدس بستی کے مجھے اپنی زندگی میں جو نصف صدی سے کچھ سال اوپر گزر چکی ہے بڑے بڑے متمدن اور مہذب شہروں میں بھی دکھائی نہیں دیا اور یقیناً یہ حسن انتظام کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ یہ بے نظیر خوبی موجود الوقت خلیفہ کے پرتو حسن کے ماتحت خوش قسمت لوگوں کو حاصل ہوئی ہے اور یہ وہ خوبی ہے جو صفحات تاریخ میں کہیں صحابہ کے عہدِ خلافت کے باب میں ہم نے پڑھی ہوئی ہے یا اب قادیان میں وہ نیکی اور