سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 613 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 613

549 خوبی اپنی ضیاء سے عہد صحابہ کی یاد کو تازہ کر رہی ہے“ میں نے خود ملاقات کے لئے جرات نہیں کی لیکن میں اس فنافی التبلیغ خلیفہ کو اس کے کار ہائے نمایاں خصوصاً تبلیغی جد و جہد سے نہایت محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔میرا یقین ہے کہ یہ اپنے ارادہ میں جو خدا کی طرف سے اس کے لئے ودیعت ہو چکا ہے ضرور کامیاب ہوگا۔قرائن وعلامات سے یہی عیاں ہے وَاللهُ اَعْلَمُ۔اور یہی اغلب معلوم ہوتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودہ صفاتی نام بھی اسی خلیفہ پر اطلاق کریں گے کیونکہ تبلیغی کام میں جس قدر اس کو انہاک ہے دنیا ئے جہان میں ایسا شخص نہ دیکھا اور نہ سنا اور نہ ہی کتب تواریخ میں کہیں نظر آتا ہے ( الحکم ۷ جنوری ۱۹۲۴ء صفحہ ۷ ) برصغیر ہندوستان کے بلند پایہ سیاسی لیڈروں نے حضور کی سیاسی عظمت کا اعتراف کیا۔حضور اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ڈاکٹر سید محمود صاحب جو کانگرس کے سیکرٹری ہیں انہوں نے میرے سامنے کہا کہ میں آپ کے سیاسی خیالات سے اختلاف رکھتا ہوں لیکن مذہبی لحاظ سے آپ کی اسلامی خدمات کا قائل ہوں۔ہمارے درد صاحب (مولانا عبدالرحیم درد۔ناقل ) جب گاندھی جی سے ملنے گئے تو اس وقت بھی گاندھی جی کے سامنے ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ مسلمانوں میں اگر کوئی کام کرنے والی جماعت ہے تو وہ احمد یہ جماعت ہی ہے۔جس پر خود گاندھی جی نے کہا کہ میں اس امر کو خوب جانتا ہوں“ الفضل ۲۷ / جون ۱۹۳۱ ء صفحه ۸) مکرم رکن الدین صاحب قرول باغ نئی دہلی نے حضور کی پہلی تقریر سنی تو ان کے لئے یہ ایک حیرت انگیز تجربہ تھا آپ نے اس زندگی بخش تجربہ کے متعلق اپنے تاثرات اس طرح قلم بند کئے :- وو ( جب حضرت خلیفۃالمسیح کو تقریر کرتے سنا۔گو حضور بیماری کی وجہ سے نہایت کمزور تھے اور چل بھی نہیں سکتے تھے مگر آپ کی تقریر سے یہ