سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 595
531 کسی نے زیادہ ٹوہ لگانے کی کوشش نہ کی۔میں پہلے دن ہی بالکل مطمئن ہو گیا، میرا قیام مہمان خانے میں ہوا، وہاں مجھے پتہ چلا کہ امام صاحب جماعت احمدیہ کے پرائیویٹ سیکرٹری جناب چوہدری بشیر احمد خان بی۔اے۔ایل ایل۔بی ہیں (جو آجکل لاہور میں اوتھ کمشنر ہیں) وہ نہ صرف میرے شناسا تھے بلکہ میرے استاد بھی رہ چکے تھے، میں ان سے ملا تو وہ بے حد خوش ہوئے۔میری خواہش پر انہوں نے حضرت صاحب سے میری ملاقات کا فوراً انتظام کر دیا۔ملاقات کا انتظام ہوتے ہی میں دارالخلافت پہنچا اور جب چند سیٹرھیاں طے کر کے اندر پہنچا تو حضرت صاحب گاؤ تکنے سے ٹیک لگائے قالین سے مفروش کمرے میں تشریف فرما تھے۔میں رسم سلام ادا کر کے جب مصافحہ کر چکا تو مختصر سے وقفہ کے بعد آپ نے فرمایا: - قادیان دارالامان ہے یہاں آپ کو سو فیصد امن اور سکون میسر رہے گا“ حضرت صاحب کے اس فقرے پر مجھے بہت تعجب ہوا۔قادیان کو دارالامان تسلیم کر کے ہی میرے شیعی اور سنی دوستوں نے مجھے وہاں بھیجا تھا مگر حضرت صاحب کا میرے حالات سے قطعاً نا واقف ہوتے ہوئے مجھے خاص طور پر ”امن“ کا یقین دلانا بڑی ہی استعجاب انگیز بات تھی۔قادیان کے سالانہ جلسے تک میرا معاملہ سلجھ چکا تھا مگر میں مزید چند روز قادیان میں قیام پذیر رہا۔اس موقع پر میرے چند احمدی دوست بھی قادیان پہنچ گئے تو باقی دنوں کے لئے میری رہائش کا انتظام محترم چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کے دولت کدہ پر ہو گیا جہاں میں نے خلوص اور عقیدت کا بے نظیر نظارہ دیکھا۔ان دنوں حضرت صاحب بے حد مصروف تھے پھر بھی میری ضروریات کے متعلق آپ دریافت فرماتے رہے۔دوسری مرتبہ ۱۹۴۰ء میں مجھے ایک سیاسی مشن پر قادیان جانا پڑا۔اس زمانے میں ہندو اپنی سنگٹھنی شرارتوں کا ایک خاص منصوبہ بنا رہے تھے اس موقع پر مرحوم و مغفور امام صاحب جامع مسجد دہلی اور سیدی ومولائی خواجہ حسن نظامی