سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 49 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 49

49 ہم کو یہ کہنے میں ذرہ تامل نہیں نہ کسی اختلاف کا خوف ہے کہ احمدی جماعت اس وقت اسلام کی کچی خدمت ہندوستان میں کر رہی ہے اور یہ اس کی خصوصیت ہے کہ وہ خدا اور رسول کی تعلیمات کی سب سے زیادہ فکر کرتی رہتی ہے اور ہم صرف اسی وجہ سے باوجود اختلاف عقیدہ کے اس جماعت کے ہمیشہ معترف رہے ہیں اور اب تو بہت زیادہ ہم اس کے شکر گزار ہیں ( مشرق یکم جولائی ۱۹۲۷ء۔بحوالہ الفضل ۱۹۔جولائی ۱۹۲۷ء ) اسی اخبار نے عشق و محبت رسول کے اس سفر کے بعض اہم واقعات کا ذکر کرتے ہوئے یہ اعتراف کیا کہ :- وو جناب امام صاحب جماعت احمدیہ کے احسانات تمام مسلمانوں پر ہیں۔آپ ہی کی تحریک سے ورتمان پر گو یا مقدمہ چلا آپ ہی کی جماعت نے رنگیلا رسول“ کے معاملے کو آگے بڑھایا، سرفروشی کی ، جیل خانے جانے سے خوف نہیں کھایا ، آپ ہی کے پمفلٹ نے جناب گورنر صاحب بہا در پنجاب کو انصاف و عدل کی طرف مائل کیا۔آپ کا پمفلٹ ضبط کر لیا مگر اس کے اثرات کو زائل نہیں ہونے دیا۔اس وقت ہندوستان میں جتنے فرقے مسلمانوں میں ہیں سب کسی نہ کسی وجہ سے انگریزوں یا ہندوؤں یا دوسری قوموں سے مرعوب ہور ہے ہیں۔صرف ایک احمدی جماعت ہے جو قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی طرح کسی فرد یا کسی جمعیت سے مرعوب نہیں ہے اور خاص اسلامی کام انجام دے رہی ( مشرق ۲۲۔ستمبر ۱۹۲۷ء بحوالہ الفضل ۷۔اکتوبر ۱۹۲۷ء صفحہ ۹) ہے۔یہ تو مسلم پریس کا خراج تحسین تھا۔ہند و پریس نے اپنے نقطہ نظر سے ان سرگرمیوں پر نظر ڈالتے ہوئے بڑی فکر مندی سے لکھا کہ :- آج تک احمدی جو کچھ کرتے رہے ہیں وہ ان کی ذاتی کوششیں ہی تھیں۔دوسرے مسلمانوں نے کبھی بھی ان کی کوئی مدد نہیں کی بلکہ ہمیشہ ان کی مخالفت کی اور ان کے کاموں کو تباہ و برباد کرنے کی جد و جہد کرتے رہے لیکن اب یہ حالت نہیں ہے آجکل سوائے پرانے خیال کے مولویوں کے باقی تمام مسلمان ان کے مددگار اور ان کے کام کے مداح ہیں۔یہ تبدیلی ایسی ہے جس میں ہمارے