سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 48
48 مشہور صحافی وادیب مولوی ظفر علی خاں صاحب ( جو جماعت کے شدید مخالف تھے ) جو حاضرین میں موجود تھے بڑے جوش سے اٹھے اور حضرت چوہدری صاحب کا بوسہ لیتے ہوئے بآواز بلند کہا کہ ظفر اللہ خاں تم نے آج ان لوگوں کا منہ کالا کر دیا جو یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں قابل وکیل نہیں ہیں۔( حضرت چوہدری صاحب کی زور دار وکالت کی وجہ آپ کی پیشہ ورانہ مہارت سے زیادہ وو آنحضرت صلی اللہ و آلہ سلم کیلئے ایمانی غیرت کا جذبہ تھا ) ۱۸۔نومبر ۱۹۲۷ء کے الفضل اخبار سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللمای آلہ سلم کی عزت وناموس کے تحفظ کی مخلصانہ کوشش برصغیر ہند و پاک سے آگے نکل کر مرکز حکومت انگلستان تک پہنچی اور احمدی ذرائع نے وزیر داخلہ اور ممبران پارلیمنٹ تک اپنے جذبات اس مؤثر رنگ میں پہنچائے کہ انہوں نے بھی اس معاملہ کی طرف توجہ دینے کا وعدہ کیا۔حضور کی اس بر وقت اور کامیاب کوشش کو ہر دردمند مسلمان نے بنظر تشکر دیکھا۔مسلم رائے عامہ کا ترجمان اخبار انقلاب اس عدالتی فیصلہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے :- مگر آخر میں حکومت کی سب سے بڑی عدالت نے اسے بری کر دیا۔جو کچھ اس عدالت نے فیصلہ کیا وہ ہمارے لئے آخری تازیانہ عبرت ہے مگر ہم ہیں ، آرام اور آسائش کی نہیں بلکہ بے غیرتی اور بے حیائی اور بے شرمی کی نیند سور ہے ہیں۔قریباً ایک ماہ ہوا کہ یہ فیصلہ چھپ چکا ہے۔ہندوستان میں مسلمانوں کے فرقے ہیں، جمعیتیں ہیں، انجمنیں ہیں، اسلامی اور دنیاوی تعلیم کے کالج ہیں مگر سب کے سب اس فیصلہ کے ہونے کے بعد بھی اس طرح سور ہے ہیں گویا ان کے نزدیک حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہماری آلہ سلم کی عزت کا مسئلہ مذہب اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھتا امتحان اور آزمائش کے وقت علی گڑھ، اسلامیہ کالج اور مسلم لیگ کی خاموشی تو اس قدر تعجب خیز نہ تھی مگر دیو بند اور مجلس خلافت اور بالخصوص جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے اس فیصلہ کے خلاف ایک سرفروشانہ مجاہدہ کا اعلان نہ ہونا ہندوستان میں مذہب اسلام کی موت کے مترادف ہے انقلاب ۲۱۔جون ۱۹۲۸ء۔بحوالہ الفضل ۲۸۔جون ۱۹۲۷ صفحه ۴ ) اسی طرح اخبار مشرق نے اسلام کی اس سچی خدمت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا:۔۔