سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 582
524 صاحب اخبار ٹریبیون کا پرچہ میری اطلاع کے لئے لائے وہ خود روتے ہوئے میرے پاس پہنچے۔خبر پڑھ کر دل بے قرار ہو گیا۔اٹھ کر میں نے اندرا اپنی اہلیہ کو خبر دی جو سخت گھبرا گئی چند ساعت تو ہم سب بیٹھ کر زار زار روتے رہے دل میں غم و ملال کے بادل کے بادل اٹھ کر آتے تھے اور قوت واہمہ قادیان لے جاتی تھی اور تصور قادیان کی حالت غم و مصیبت کی ایسی تصویر کھینچتا تھا جس کی وجہ سے آنکھیں پھٹ جاتی تھیں اور کلیجہ منہ کو آتا تھا۔تمام رات میں نہیں سویا اور روتے ہوئے گزری۔میری اہلیہ کی حالت نہایت مضطر بہانہ تھی۔اور کبھی کبھی جب اس کے منہ سے یہ صداغم والم کے گہرے جذبات سے آلودہ نکلتی کہ حضرت صاحب نے ہزاروں نکاح اور خطبے پڑھے ہونگے لیکن کیا اب ان کی لڑکی کا خطبہ کوئی اور پڑھے گا۔تو دل غم کے تلاطم خیز سمندر میں تیرتا دکھائی دیتا تھا اور جب قوت واہمہ میری توجہ کو جماعت کی موجودہ بے کسی اور اندرونی و بیرونی شورش کی طرف کھینچتی تھی تو پھر دل سے یہی صدا نکلتی تھی کہ یہ زلزلہ جو ہماری جماعت پر آیا ہے بے نظیر ہوگا اور اس کی مثال کسی گزشتہ جماعت کے حالات میں نہیں ملتی تھی دل غم سے پر ہو کر آنکھیں آسمان کی طرف اٹھ جاتی تھیں۔کبھی کبھی دل میں خیال گزرتا تھا کہ شاید یہ خبر جھوٹ ہو لیکن اس پر اعتبار نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ اتنی بڑی شخصیت کے متعلق ٹریبیون اخبار میں جھوٹی خبر نکلنے کا کم امکان ہو سکتا ہے۔تا ہم اس خیال کے تابع میں نے اپنے رب کے حضور میں درخواست کی کہ اے میرے مولیٰ ! اگر یہ خبر غلط ہو تو میں ایک رات سالم عبادت کرونگا اور بالکل نہیں سوؤنگا۔چنانچہ آج اللہ تعالی کے فضل سے ایسا ہی کرنے کا ارادہ ہے۔“ غرضیکہ گزشتہ رات ہمارے لئے قیامت کا نمونہ تھی میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے آج تک ایسی غم والی رات نہیں پائی۔“ 66 (الفضل ۱۰۔جون ۱۹۳۰ء صفحہ ۲) حضور نے جماعت کی اس والہانہ عقیدت و محبت کے متعلق فرمایا: دوستوں کو اس قدر پریشانی تھی کہ کئی ایک کے دل گھٹنے شروع ہو گئے