سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 568 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 568

510 میں وہ ان کا سچا ہمدرد اور حقیقی خیر خواہ تھا۔الفضل فضل عمر نمبر ۲۶ مارچ ۱۹۶۶ء صفحه ۲۰) مکرم صوفی بشارت الرحمان صاحب حضور کی سیرت کے بعض بہت دلچسپ اور ایمان افروز واقعات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔۱۹۴۳ء میں خاکسار نے ایم۔اے پاس کیا۔اسی سال جولائی اگست کے مہینوں میں مجھے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے ہمراہ ڈلہوزی پہاڑ پر جانے کا شرف حاصل ہوا۔ڈلہوزی کے اس قیام کے دوران مجھے حضور انور کو بہت قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔اکثر سیروں میں حضور کی معیت اور قرب سے لطف اندوز ہوتا۔وہ زمانہ میری زندگی کا روحانی مسرتوں سے معمور زمانہ تھا جس کی یاد آج بھی دل میں گدگدی پیدا کرتی ہے۔بعض اوقات ایسا ہوا کہ سیر کے بعض حصوں میں صرف یہ خاکسار ہی حضور کی خدمت میں ہوتا جی بھر کر سوالات کرتا اور حضور بڑی ہی خندہ پیشانی سے جوابات سے نوازتے۔یہ حضور کی ذرہ نوازی تھی کہ حضور ہر معاملے میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی فرماتے۔ان کے معاملات میں زیادہ دلچسپی لیتے۔ان حسین یادوں کو تازہ کرنے کے لئے بعض باتیں سپر د قلم کرتا ہوں۔ایک موقع پر علم النفس اور اسکے ماہرین کے متعلق گفتگو شروع ہوئی۔خاکسار کو چونکہ علم النفس سے بہت دلچپسی رہی ہے اس لئے حسب عادت سوالات کی بھر مار کر دی۔حضور اقدس ڈلہوزی کی ایک چوٹی ” دیان کنڈ کی طرف جاتے ہوئے قافلے سمیت چڑھائی چڑھ رہے تھے، سانس پھول رہا تھا۔مگر میں اپنے سوالات کا جواب حاصل کرنے میں اسقدر بے تاب کہ سوال پر سوال کئے جاتا تھا آج جب میں اپنی اس حرکت کو سوچتا ہوں تو سخت شرمندہ ہوتا ہوں کہ حضور اقدس کی کوفت اور سانس پھولنے کو فراموش کرتے ہوئے اپنی دھن میں ہی مگن تھا۔کچھ عرصہ تو حضور باوجود ایسی حالت کے جواب دیتے رہے۔آخر جب چڑھائی زیادہ سخت ہو گئی اور خاکسار سوالات سے باز نہ آیا تو فرمایا۔بھاڑ میں جائے تمہارا ڈاکٹر فرائیڈ میرا سانس تو ٹھیک ہو لینے دو۔بس کچھ ///