سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 567
509 بغیر نہ رہے۔یہ نظام بفضلہ آج بھی جاری ہے۔عید الفطر کے موقع پر قادیان میں حضور کی طرف سے ایسا انتظام بھی کیا جاتا رہا کہ غرباء کے گھروں میں آٹا ، سویاں گھی اور کھانڈ کی تقسیم کی جاتی کیونکہ رقم کی امداد کی صورت میں ضرورت مند لوگ اسے دوسری ضروریات میں صرف کر لیتے اور حضور کا منشاء مبارک یہ تھا کہ عید کے موقع پر غرباء بھی اپنے ہاں اچھا کھانا تیار کرسکیں۔حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ حضور رمضان المبارک میں صدقہ و خیرات بہت کرتے تھے اور غرباء کی بہت مدد فرماتے تھے۔حضرت فضل عمر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی سنت پر پوری طرح عمل پیرا تھے۔رمضان المبارک کے ایام میں آپ کثیر رقوم غرباء میں تقسیم فرماتے اس کا انتظام بھی محلہ وار تھا تا کہ کوئی مستحق اس مدد سے محروم نہ رہ جائے۔چنانچہ ۱۹۴۴ء کے رمضان المبارک میں حضور نے گیارہ صد روپیہ کی ایک رقم حضرت مولانا شیر علی صاحب کو بھجوائی کہ اسے مستحقین میں تقسیم کر دیا جائے۔میں ان ایام میں حضرت مولوی صاحب کے ساتھ دفتر تفسیر القرآن انگریزی میں کام کرتا تھا۔اور آپ اس قسم کا کام میرے سپر دفرما دیا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اس گیارہ صدر وپے کے متعلق جو تحریر حضرت مولانا شیر علی صاحب کو تحریر فرمائی یہ حضور کے اپنے ہاتھ کی تحریر فرمودہ ہے۔اور اتفاق سے اب بھی میرے پاس محفوظ ہے۔حضور اس میں تحریر فرماتے ہیں۔مکرم مولوی صاحب ! اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ پانچ سو روپیہ کا رُفعہ پہلے بھجوا چکا ہوں چھ صد روپیہ کا ایک اور بھجوا رہا رہا ہوں یہ روپیہ بھی محاسب صاحب سے لے لیں اور غرباء میں آٹا وغیرہ تقسیم کروا دیں۔“ اس کے بعد اس خط میں حضور نے چند ایک نام بھی تحریر فرمائے ہیں کہ ان لوگوں کو بھی اس امداد میں مد نظر رکھیں۔اللہ اللہ کیسا بابرکت وجود تھا جسے ہر وقت اپنے خدام کی بہتری اور بہبود کا خیال رہتا تھا۔اور ہر مشکل کے وقت۔