سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 563 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 563

505 میں بہت جلد حضرت اقدس کی بارگاہ میں نظموں کی لحاظ سے مقبول ہو گیا تھا۔جلسہ سالانہ پر بھی حضور مجھ سے اپنا منظوم کلام پڑھاتے۔ایک روز قبل قصر خلافت میں طلب کر کے پہلے ٹریننگ کے طور پر کلام سنتے اور مناسب مشورہ دیتے۔قریباً ۲۵ سال تک مجھے یہ فخر حاصل رہا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِکَ۔ایک بار میں نے لندن میں مسجد بن جانے پر ایک چھوٹی سی نظم حضور کو مسجد مبارک میں ہی سنائی۔اس کی طرز کچھ ایسی دلچسپ تھی کہ اندر مکان میں سے آواز سن کر خاندان کے چند کم سن صاحبزادگان بھاگ کر مسجد میں آ بیٹھے۔حضور اُن بچوں کو دیکھ کر مسکراتے رہے جب نظم ختم ہوئی تو حضور نے مختصر سی تقریر فرمائی۔جس کا مفہوم کچھ اس قسم کا تھا کہ دیکھوٹر یلی آواز بھی کیسی پُرکشش ہوتی ہے۔یہ بچے مضمون کو نہیں سمجھ سکتے مگر آواز پر بھاگے آئے ہیں۔شیعہ فرقے نے مرثیے سنا سنا کر بڑی تبلیغ کی ہے ہمارے مبلغوں کو بھی اس طریقے سے مدد لینی چاہئے۔ہندوؤں اور سکھوں نے گانا بجانا اپنی عبادت میں رکھا ہوا ہے۔ان کے اندر سچائی تو ہے نہیں صرف گانے بجانے سے لوگوں کو متاثر کر لیتے ہیں مگر ہمارے پاس تو سچائی ہے۔میری شادی کے موقع پر حضرت اقدس نے جس شفقت کا مظاہرہ فرمایا وہ بھی اپنے اندر ایک عجیب رنگ رکھتا ہے۔۱۹۲۱ء میں حضور ہی کی سفارش سے میرا رشتہ محترم منشی عبدالخالق صاحب کپور تھلوی صحابی کی صاحبزادی سے طے پایا۔منشی صاحب موصوف قادیان آ کر نکاح کر گئے اور رخصتانہ کی تاریخ مقرر کر گئے۔مگر میری خوشدامن اور منشی صاحب کے بڑے بھائی اور دیگر لواحقین یہ رشتہ کرنا نہ چاہتے تھے وہ سب کے سب مخالف ہو گئے اور منشی صاحب کو ناکام بنانے کی سکیمیں بنانے لگے۔موضع آلوپور میں جو کہ سلطان پورٹیشن سے ۴ میل پر واقع ہے کوئی جماعت نہ تھی۔صرف منشی صاحب اور اس کے بھائی کے دوگھر تھے باقی رشتہ دار جو قریب کے گاؤں میں رہتے تھے وہ سب غیر احمدی تھے۔حالات خراب ہوتے گئے اور جوں جوں رخصتانے کی تاریخ قریب آتی گئی مخالفت بڑھتی گئی یہاں تک کہ ان لوگوں نے چیلنج کیا کہ دیکھیں گے کون یہاں