سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 562
504 ایک دفعہ حضور ڈلہوزی تھے اور سب روزے باقاعدہ رکھ رہے تھے۔میں نے عرض کیا کیا عید پر قادیان آئیں گے؟ فرمایا اگر عید پر جاؤں تو ایک روزہ جاتا ہے۔حضور کو پورے تیں رکھنے کی اتنی خواہش تھی کہ عید ڈلہوزی میں ہی ہوئی۔حضرت اُمم ناصر کی وفات کے بعد میں نخلہ گیا۔حضرت کو جب علم ہوا کہ میرا کوئی ذاتی کام نہیں صرف تعزیت کی غرض سے آیا ہوں تو حضور نے مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری کے ساتھ مجھے بھی مہمان خصوصی کا اعزاز دیا، اندر سے کھانا بھجواتے رہے، بستر بھی دیا اور اپنی ذاتی کار میں واپس ربوہ بھیجا۔میں نے کبھی نہ دیکھا کہ حضور نے مجلس میں کبھی چھینک ماری ہو یا جمائی لی ہو۔(البتہ کھانسی ضرور آتی رہتی تھی ) یا قہقہہ مار کر ہنسے ہوں۔پنکھا ضرور کرواتے مگر چہرہ پر ہوا کو پسند نہ فرماتے تھے۔مجلس میں دوست پاؤں اور جسم کو دباتے بھی تھے۔ایک دن عاجز پاؤں دبانے لگا تو فرمایا یہ آپ کا کام نہیں ہے۔مجلس میں اونچی آواز سے یا شیخ کر بولنا حضور کے وقار اور مقام کے خلاف تھا۔ایک شادی کے موقع پر ایک معزز با رسوخ احمدی دوست نے عرض کیا ان دنوں حضرت سیدہ سارہ بیگم مرحومہ نے B۔A کا امتحان دیا ہوا تھا) حضور حرم محترم کا رول نمبر بتا دیں میں یونیورسٹی میں کوشش کر سکتا ہوں۔حضور نے کوئی جواب نہ دیا۔تا ان کی ہتک نہ ہو یوں اس بات کو بہت نا پسند فرمایا۔عاجز نے عرض کیا میں بھی شریعت کا فلسفہ بیان کرتا ہوں اس سے ٹھوکر کا اندیشہ بھی ہوتا ہے۔اس سے قبل شیخ تیمور ( شاگر دخلیفہ اول) نے یہ کام شروع کیا تھا مگر مرتد ہو گئے۔فرمایا ورثہ کے ایمان میں ارتداد کا اندیشہ کم ہوتا ہے عقلی ایمان والے کو ٹھوکر کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔مکرم ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم جو ملکا نا تحریک کے زمانہ میں جوگیوں کی طرح گاؤں گاؤں گھوم کر نظمیں پڑھنے اور تبلیغ کرنے کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے تھے۔اپنی پرانی یادوں میں سے حضور کے پیار و شفقت کے واقعات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔//////